کراچی کے نوجوان مقتول تاجر میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی طرف سے مداخلت کیوں ہوئی ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں جبران ناصر نے کہا کہ آج کارروائی میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کھڑے ہوکر بتا رہے ہیں کمیشن کیسے چلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی طرف سے کیوں مداخلت ہوئی ہے؟ یہ سوال اہم ہے، آج کی کارروائی میں اہم گواہان کے بیانات قلم بند ہونا تھے۔
جبران ناصر نے مزید کہا کہ ایس ایچ او عدیل افضال کا بیان رکارڈ ہونا تھا، پولیس سرجن کا بیان بہت ہی اہم تھا، ابتدائی چیزوں کی گواہ فیملی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہوسکتا تھا میرا سوال رد کردیا جاتا، کمیشن نے کہا کہ یہ سوال جبران ناصر کے نہیں فیملی کے سوالات ہیں۔
جبران ناصر نے یہ بھی کہا کہ مقتول کے اہلخانہ کے وکیل نے کہا کہ کمیشن ہر سوال میرٹ پر دیکھ رہا ہے، کمیشن کی موجودگی میں کوئی وکیل سوال نہیں کرسکتا ایسا کہیں نہیں لکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے ٹی او آرز میں لکھا ہے کہ تمام حقائق سامنے لائے جائیں، اب تک میر رضا کیس کی زیرو بٹا زیرو انویسٹی گیشن ہوئی ہے جبکہ مجسٹریٹ صاحب ٹائم پر ٹائم دے رہے ہیں۔
اہل خانہ کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے میں سندھ حکومت لکھ دے کہ ہمارے بس کی بات نہیں، جے آئی ٹی بنادیں، وزیر داخلہ سندھ کو طلب کرلیا گیا ہے کہ بتایا جائے یہ مداخلت کیوں ہے؟