اسلام آباد پولیس نے سانحہ پمز کی فوجداری قانون کے تحت تحقیقات شروع کردیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سانحہ کے بعد پمز کے سیکیورٹی اسٹاف کو پتہ ہی نہ تھا کہ فائر بریگیڈ کا ہیلپ لائن نمبر کیا ہے؟ 6 بجکر 38 منٹ پر آگ لگی تو سیکیورٹی کا عملہ سب سے فائر بریگیڈ کا نمبر پوچھتا نظر آیا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی سے نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے معاملے میں پولیس نے دفعہ 174 فوجداری قانون کے تحت تحقیقات شروع کردیں۔
پمز ہسپتال کے معطل افسروں کے تفصیلی بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پولیس پمز کے معطل افسروں کے ریکارڈ بیانات مجسٹریٹ کو جمع کروائے گی جبکہ قصور وار پائے جانے کی صورت میں مقدمات کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔
پولیس کے ریکارڈ بیانات کی سربراہی ایس ایس پی انویسٹی گیشن کر رہے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق سانحہ کے بعد ریسکیو آپریشن فوری شروع کیوں نہ ہوسکا؟ اس سے متعلق حیران کن حائق بھی سامنے آگئے۔
پمز سیکیورٹی اسٹاف کو پتہ ہی نہ تھا کہ فائربریگیڈ کا ہیلپ لائن نمبر کیا ہے۔ 6 بجکر 38 منٹ پر آگ لگی تو سیکیورٹی اسٹاف فائر بریگیڈ کا نمبر پوچھتے رہ گئے۔ فائربریگیڈ کو کال 16 منٹ تاخیر سے 6 بجکر 54 منٹ پر کال کی گئی۔
سیکورٹی اسٹاف نے ون فائیو پر کال کرکے آتشزدگی کے بارے میں بتایا تو ون فائیو نے فائر بریگیڈ کو کال کر کے آتشزدگی کی اطلاع دی۔
اس سے قبل چھ جولائی کو پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگی تب بھی پمز کے اسٹاف کے پاس اس وقت بھی فائر بریگیڈ کا نمبر نہ تھا۔