ہم اب موسیقی نہیں، ریلز بنا رہے ہیں، ہری ہرن کا بھارتی میوزک کے معیار پر افسوس

تصویر سوشل میڈیا

ہندی تامل، ملیالم، کناڈا اور تیلگو زبانوں کے سینئر بھارتی گلوکار  ہری ہرن کا کہنا ہے کہ ہم اب موسیقی نہیں بنا رہے بلکہ ہم ریلز بنا رہے ہیں۔

دس زبانوں میں 15 ہزار سے زیادہ گیت گانے والے 71 سالہ غزل گائیک کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ بھارتی موسیقی کے منظر نامے پر انہیں افسوس بھی ہے۔ 

ان کے مطابق 15 سیکنڈز کے ہُکس، وائرل ریلز اور الگورتھمز اب موسیقی کی تخلیق کے انداز کو طے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کہیں نہ کہیں تخلیقی موسیقی کی اصل روح متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ہری ہرن اگلے سال بھارتی میوزک انڈسٹری میں اپنے 50 سال مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ اپنے اس شاندار سفر کو وہ شکرگزاری اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں، تاہم موجودہ بھارتی موسیقی کے منظرنامے پر انہیں افسوس بھی ہے۔

بھارت میں موسیقی کی موجودہ صورتحال پر انہوں نے کہا کہ اگر آپ الگورتھمز اور ڈیٹا جیسی تمام چیزوں کو ذہن میں رکھ کر موسیقی بنائیں گے تو آپ کس قسم کی موسیقی بنا رہے ہیں؟ پھر آپ موسیقی نہیں بنا رہے ہوتے، آپ کچھ اور بنا رہے ہوتے ہیں جس کے بارے میں مجھے بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا ہے، لیکن یہ یقینی طور پر موسیقی نہیں ہے۔

ہری ہرن کہتے ہیں کہ اسٹریمنگ سروسز کی سہولت نے موسیقی سننے کے تجربے کو متاثر کیا ہے۔ ہر قسم کی موسیقی آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے سامعین کی موسیقی کے ساتھ ذاتی وابستگی اور سرمایہ کاری بہت کم ہوگئی ہے۔ ہمارے لیے تخلیقی موسیقی کرنا اس دور کی نسبت زیادہ آسان تھا۔ اس وقت سامعین کو موسیقی پر ایک طرح کی ملکیت کا احساس بھی ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں سینئر گلوکاروں کی ایک مرتبہ پھر مرکزی دھارے کی موسیقی میں واپسی دیکھنے میں آئی ہے۔ سونو نگم، شان، ادیت نارائن، شریا گھوشل اور دیگر گلوکاروں کو دوبارہ فلموں میں زیادہ گانے مل رہے ہیں، جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا تب ایسا نہیں تھا۔

صورتحال کی تبدیلی پر انکا کہنا تھا اگر انداز میں اچانک بہت بڑی تبدیلی آجائے اور اسے سامعین پر مسلط کر دیا جائے تو وہ ابتدا میں اسے اس لیے قبول کر لیتے ہیں کیونکہ انہیں کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر وہ بغاوت کرتے ہیں۔ واحد چیز جو کبھی نہیں بدلتی، وہ اچھی دھن ہے۔