چینی کے ایک متبادل کا دل کے دورے و فالج کے خطرے سے تعلق کا انکشاف

—فائل فوٹو 

روایتی میٹھے (چینی) کی جگہ ایک مقبول کم کیلوری والے اس کے متبادل زائلیٹول (Xylitol) کو دل کے دورے اور فالج سمیت سنگین امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ممکنہ طور پر منسلک پایا گیا ہے۔

یورپی سوسائٹی کانگریس برائے امراضِ قلب (European Society Cardiology Congress) میں پیش کی گئی نئی تحقیق کے مطابق ’زائلیٹول‘ خون کے پلیٹلیٹس کو معمول سے زیادہ آسانی سے جمنے اور خون کے لوتھڑے بننے میں مدد دے سکتا ہے جس سے امراضِ قلب میں مبتلا افراد کے لیے تشویش بڑھ گئی ہے۔

زائلیٹول قدرتی طور پر پھلوں اور سبزیوں میں معمولی مقدار میں پایا جاتا ہے جبکہ انسانی جسم بھی قدرتی طور پر اس کی تھوڑی مقدار پیدا کرتا ہے تاہم اسے صنعتی طور پر بڑی مقدار میں تیار کر کے شوگر فری چیونگم، ٹافیاں، بیکری مصنوعات اور ٹوتھ پیسٹ سمیت مختلف اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کا ذائقہ روایتی مٹھاس ’چینی‘ جیسا ہوتا ہے لیکن اس میں چینی کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم کیلوریز ہوتی ہیں اور یہ خون میں شکر کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں کرتا۔

تحقیق کے دوران کینیڈین طویل مدتی مطالعۂ عمر اور یورپی طویل مدتی طبی تحقیق سے وابستہ 17,710 افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے خون میں زائلیٹول کی مقدار اور دل و خون کی نالیوں سے متعلق خطرات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔

تحقیق پیش کرنے والے ڈاکٹر مارکو وٹکوسکی کے مطابق سابقہ مطالعات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ زائلیٹول پلیٹ لیٹس میں خون جمنے کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے جبکہ خون میں زائلیٹول کی زیادہ مقدار زیادہ خطرے والے افراد میں 3 سال کے دوران امراضِ قلب سے متعلق واقعات سے منسلک پائی گئی تھی۔

محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ تحقیق زائلیٹول کے استعمال اور دل کے دورے یا فالج کے درمیان براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں کرتی بلکہ دونوں کے درمیان مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چینی کے متبادل زائلیٹول کے دل کی صحت پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مختلف مصنوعات میں اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔