قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ پی سی بی نے غلط اور برا فیصلہ لیا ہے، جو فیصلے لینے تھے وہ سیریز ختم ہونے کے بعد لے لیتے۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، ہم نے خود اپنا مذاق بنایا۔ اگر یہ چیئرمین پی سی بی کا بھی فیصلہ تھا تو بھی سلیکشن کمیٹی کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے تھی۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سونے پر سہاگہ یہ کہ، تیسرے ٹیسٹ کے لیے جو لڑکے بھیجے ہیں وہ ٹی 20 کے لڑکے ہیں۔ ہمارے فیصلوں میں نہ تو تسلسل ہوتا ہے اور نہ ہی میرٹ پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
شاہد آفریدی نے محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ وہ کرکٹ پر سب سے زیادہ توجہ دیں اور دوسروں پر ذمہ داریاں نہ چھوڑیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز احمد جب پی سی بی میں آیا تو میں بہت خوش تھا کہ وہ انڈر 19 لیول پر کام کرے گا، 3 مہینے میں ہی سرفراز احمد پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ بن گئے، یہ کونسا پراسس ہے کہ جس کے تحت سرفراز احمد کو 3 مہینے میں ہی ہیڈ کوچ لگا دیا گیا۔