پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سلطان حیات نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے، پارٹی کی قیادت میں برداشت ہے، نوجوان بلاول بھٹو کا ساتھ دیں۔
ان خیلالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی نارتھ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو مانچسٹر کے مقامی ہوٹل میں ہوا۔ اجلاس کی میزبانی صدر نارتھ ویسٹ گلزار خان اور صدر ویمن ونگ نارتھ رضیہ چودھری نے کی جبکہ مہمان خصوصی سلطان حیات تھے۔
اجلاس میں بابر فاروق، محمود اصغر چودھری، محبوب الہٰی بٹ، امجد بھٹی، بلال درانی، شاہ فرید، کونسلر مقدسہ بانو سمیت پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی نارتھ ویسٹ کے صدر گلزار خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے ساتھ وفادار رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو برطانیہ میں متحرک کیا جائے جس کے لیے وہ مرکزی قیادت سے ملاقات کریں گے اور پیپلز پارٹی کی رکنیت سازی اور تنظیم سازی کریں گے۔
رضیہ چودھری نے کہا کہ پارٹی قیادت کا کارکنوں سے رابطے کا فقدان ہے اور کارکنوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہم نے پیپلز پارٹی کے لیے بہت کام کیا، پاکستان سے آنے والی قیادت لندن کا دورہ کرکے واپس چلی جاتی ہے، نوجوانوں کو موقع ملنا چاہیے، نوجوان آگے بڑھیں گے تو پارٹی مضبوط ہو گی۔
کونسلر مقدسہ بانو نے کہا کہ پارٹی کی نئی ممبر شپ اور نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی برمنگھم کے رہنما طالب حسین نے کہا کہ پارٹی قیادت تمام برانچوں کو متحد کرے، پیپلز پارٹی واحد جمہوری پارٹی ہے جس نے نوجوانوں کو موقع دیا، راجہ پرویز اشرف کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے شامل ہوا۔
شاہ فرید نے کہا کہ پیپلز پارٹی نظریے اور جدوجہد کانام ہے، بانی ذوالفقار علی بھٹو جمہوری اور مزدوروں اور کسانوں کے رہنما تھے، انھوں نے طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں کا نظریہ دیا، جبکہ بے نظیر بھٹو نے قید اور جلاوطنی دیکھی۔
انھوں نے کہا پیپلز پارٹی کی قیادت نے قربانیاں دیں۔ ہمیں چاہیے کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
بلال درانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی ونگز کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔بابر فاروق نے کہا کہ نوجوان پیپلز پارٹی سے مایوس نہ ہو۔بلاول بھٹو پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ نوجوان رہنما ہیں، پیپلز پارٹی نے روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ دیا۔
نوجوان رہنما تبارک محمود نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیے دن رات کام کریں گے، پیپلز یوتھ کو فعال کرنا چاہیے۔ نوجوانوانوں کو پارٹی میں شامل ہونا چاہیے۔