پمز اسپتال میں آگ کے شعلوں نے 14 ماؤں کے خوب صورت خواب چھین لیے، گودیں اجاڑ دیں

فوٹو: رائٹرز 

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں لگی آگ نے جہاں 14 نومولود بچوں کی جان لی، وہاں ماؤں سے ان کے خوب صورت خواب بھی چھین لیے۔

26  اگست 2026 کی صبح دارلحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں جو کچھ ہوا وہ دیر تک درد دل رکھنے والوں کو رلاتا رہے گا۔ اس روز پمز کی چھت تلے ایک نہیں، دو نہیں 14 ماؤں کی باد نو بہار سے مہکتی گودیں ناگہاں اجڑ گئیں۔

پمز کے این آئی سی یو میں لگی آگ نے اس گلستاں کو جلا کر رکھ دیا جہاں گل و سمن کی کونپلیں ابھی نکھرنے نہ پائی تھیں، آنکھوں میں بچوں کے نرم و ملائم چہروں کے نقش و نگار سجائے، خیالوں میں ان سی اٹکھیلیاں اور باتیں کرتی مامتائیں بکھر گئیں، پھول رہے، نہ انکی خوشبو، خواب رہے نہ آنے والے کل کی خوبصورتی۔

وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے پمز کے این آئی سی یو میں 14 نوزائیدہ بچوں کی دل خراش موت ارباب اختیار اور پمز کی انتظامیہ کی کارکردگی پر اٹھتا کڑا سوال ہے۔

آگ جس طرح بھی لگی، آگ بجھانے کا نظام فوری فعال کیوں نہیں تھا، نرسری میں فائر الارم سسٹم کیوں نہیں تھا، بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکالنے اور بچانے کا نعم البدل بندوبست کیوں موجود نہیں تھا۔