بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 18 ارب ڈالر ادا کرے گی

فوٹو: رائٹرز 

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے امریکا کی بیشتر ریاستوں کی جانب سے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے اور پلیٹ فارمز کی حفاظت سے متعلق صارفین کو گمراہ کرنے کے الزامات کے تصفیے کے لیے 18 ارب ڈالر تک ادا کرنے اور فیس بک و انسٹاگرام میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر اتفاق کرلیا۔

معاہدے کے تحت میٹا آئندہ 10 سال تک نوعمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کو روزانہ دو گھنٹے تک محدود کرے گی جبکہ والدین کی اجازت کے بغیر رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

تاہم معاہدے کے تحت میٹا کو صارفین کے لیے ذاتی نوعیت کی سفارشات یا ٹارگٹڈ اشتہارات ختم کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ کمپنی نے تصفیہ کرتے ہوئے کسی بھی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔

امریکی ریاستوں، واشنگٹن ڈی سی، پورٹو ریکو، امریکن ساموا اور ناردرن ماریانا آئی لینڈز کو مجموعی طور پر 17.6 ارب ڈالر سے زائد ادا کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے متعلق صارفین کی پرائیویسی کے دعووں کے تصفیے کے لیے میٹا 459 ملین ڈالر بھی ادا کرے گی۔ کیلیفورنیا کو سب سے زیادہ 2.2 ارب ڈالر ملیں گے جبکہ نیویارک اور ٹیکساس کو ایک، ایک ارب ڈالر سے زائد ادا کیے جائیں گے۔

کچھ رقم کی ادائیگی اس بات سے مشروط ہوگی کہ گوگل کی یوٹیوب اور بائٹ ڈانس کی ٹک ٹاک بھی بچوں کے تحفظ کے لیے اسی طرح کے اقدامات کرتی ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریاستی حکومتوں، مقامی اداروں، اسکول ڈسٹرکٹس اور شہریوں کی جانب سے ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔ جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بحران کو بڑھا رہے ہیں اور بےچینی، ڈپریشن اور خودکشی جیسے مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

میٹا، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف بھی ہزاروں مقدمات زیرِ سماعت ہیں جن میں الزام ہے کہ کمپنیوں نے جان بوجھ کر بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کی کوشش کی۔

میٹا کے خلاف مقدمے میں 29 ریاستوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے بچوں کے والدین کی اجازت کے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا جمع کر کے اسے جنریٹو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کیا، جو وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

میٹا نے طویل عرصے تک مؤقف اختیار کیا کہ وہ صارفین کو گمراہ نہیں کرسکتی کیونکہ ’سوشل میڈیا کی لت‘ کو باقاعدہ نفسیاتی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

تاہم بدھ کے تصفیے کے باوجود میٹا کو بچوں کے تحفظ سے متعلق مزید ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے اور اکتوبر میں لاس اینجلس میں مزید مقدمات کی سماعت متوقع ہے۔

اس سے قبل رواں سال نیو میکسیکو میں ایک مقدمے میں میٹا کو بڑا دھچکا لگا تھا، جہاں جیوری نے کمپنی کو 375 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ 6 اگست کو جج نے مزید 567 ملین ڈالر ادا کرنے اور نوجوانوں کے تحفظ کے اقدامات نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔