وسط مدتی انتخابات سے قبل میل اِن بیلٹ پابندیوں کے معاملے پر امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
عدالت نے امریکی صدر کے احکامات پر عمل درآمد روکنے سے متعلق ضلعی عدالت کا ایک حکم ختم کر دیا، جبکہ دوسرے پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، جس کے تحت امریکی پوسٹل سروس کو ملک بھر میں میل کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق نئی سخت پابندیاں نافذ کرنے سے روکا گیا ہے۔
23 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے ٹرمپ کے حکم نامے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر ریاستوں کی جانب سے حکم نامے کو چیلنج کرنا قبل از وقت ہے۔
جون میں بوسٹن کی ضلعی عدالت نے صدارتی حکم نامے کے نفاذ کو روکنے کے لیے عبوری حکمِ امتناعی جاری کیا تھا۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے میل اِن بیلٹنگ کے مخالف اور وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک بھر میں اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔