بالی ووڈ اداکارہ کاجول کا کہنا ہے کہ ان کی 90 اور 2000 کی دہائی کی فلمیں نئی نسل کے ناظرین میں دوبارہ مقبول ہو رہی ہیں اور نوجوان شائقین ان کی پرانی فلمیں دریافت کر رہے ہیں۔
فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ایک انٹرویو میں کاجول نے بتایا کہ حال ہی میں کئی نوجوان ان سے مل کر ’کبھی خوشی کبھی غم‘، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’پیار تو ہونا ہی تھا‘ دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں۔
کاجول کے مطابق 90 اور 2000 کی دہائی کے سینما کا ایک نیا احیا دیکھنے میں آرہا ہے۔ نوجوان انہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان کی فلمیں ابھی دیکھی ہیں اور انہیں یہ فلمیں بہت پسند آئی ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ نئی نسل ان فلموں کو صرف ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ ان کے جذبے اور رومانوی انداز کی وجہ سے بھی پسند کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دور کی فلمیں بہت جذبے اور خوبصورتی سے بنائی جاتی تھیں اور آج کے مقابلے میں زیادہ رومانوی ہوتی تھیں، اسی لیے لوگ دوبارہ ایسی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ وہ اپنے کس کردار سے سب سے زیادہ خود کو قریب سمجھتی ہیں، کاجول نے ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کی انجلی کا نام لیا۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ اس وقت وہ خود بھی ٹام بوائے جیسی تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی نسل جہاں کاجول کی فلمیں دوبارہ دریافت کر رہی ہے، وہیں ان کے اپنے بچے نائسا دیوگن اور یگ دیوگن ان کی فلمیں دیکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔
کاجول کے مطابق بچے کہتے ہیں کہ وہ فلموں میں اتنی حقیقت پسندانہ اداکاری کرتی ہیں کہ انہیں اپنی والدہ کو بار بار روتا دیکھنا اچھا نہیں لگتا، اداکارہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر وہ بری اداکارہ ہوتیں تو شاید بچے ان کی زیادہ فلمیں دیکھتے، لیکن چونکہ وہ پردے پر بہت اچھا روتی ہیں، اس لیے بچے اپنی ماں کو اس طرح دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
اپنی نئی فلموں سے متعلق میڈیا رپورٹس پر کاجول نے کہا کہ وہ ایسی خبروں پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں کیونکہ ان کے بقول تقریباً 90 فیصد خبریں بے بنیاد ہوتی ہیں۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ جب بھی وہ کسی فلم میں کام کرنے کا حتمی فیصلہ کریں گی تو اس کا باضابطہ اعلان فوراً سب کے سامنے ہوگا۔