بھارتی ریاست مغربی بنگال میں 16 سالہ اقبال شیخ جِلد پر شدید جلن کے باعث طویل وقت تالاب کے پانی میں گزارنے پر مجبور ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقبال شیخ کے لیے پانی سے باہر رہنا مشکل ہے کیونکہ نوجوان کی جِلد پر جلن ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتی ہے۔
اقبال شیخ کے اہلِ خانہ نے مختلف اسپتالوں اور معالجین سے رجوع کیا تاہم تاحال علامات برقرار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے اس کیفیت کی ایک ممکنہ وجہ نایاب بیماری ’ایریتھرومیلالجیا‘ (Erythromelalgia) قرار دی ہے تاہم اس کی حتمی تشخیص ابھی نہیں ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق اقبال شیخ مسلسل اپنے دن کا زیادہ تر وقت تالاب میں گزارتا ہے تاکہ اس کیفیت سے سکون حاصل کر سکے، اس کے نتیجے میں نوجوان کی جلد مزید مسائل کا شکار ہو گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقبال شیخ سے ڈاکٹروں کا مسلسل رابطہ ہے اور معالجین متاثرہ نوجوان کو اس کیفیت سے چھٹکارہ دلانے کے لیے تحقیق اور دیگر ریاستوں کے ڈاکٹروں کے ساتھ بھی رابطے میں۔
ایریتھرومیلالجیا کیا ہے؟
یہ ایک نایاب بیماری ہے جس میں اعصاب اور جِلد کی چھوٹی خون کی نالیوں کے نظام میں خرابی کے باعث جسم کے متاثرہ حصوں میں شدید جلن، سرخی، سوجن اور غیر معمولی گرمی محسوس ہوتی ہے۔
یہ بیماری عموماً پاؤں اور ہاتھوں کو متاثر کرتی ہے تاہم اس سے بازو، ٹانگیں، کان اور چہرہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس بیماری کی علامات چند منٹ سے کئی دن تک جاری رہ سکتی ہیں اور بعض افراد میں مسلسل بھی رہتی ہیں۔