سلمیٰ آغا نے بھارت منتقل ہونے کی وجہ بتا دی

سلمیٰ آغا—فائل فوٹو

معروف اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے پاکستان کے بجائے بھارت میں رہائش اختیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کبھی پاکستانی شہریت حاصل نہیں کی تھی۔

سلمیٰ آغا نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں میزبان نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان کے بجائے بھارت کا انتخاب کیوں کیا؟

جواب میں سلمیٰ آغا نے کہا کہ یہ اچھا سوال ہے کیونکہ میں کبھی پاکستانی شہری نہیں رہی، میرا خاندان برطانیہ منتقل ہو گیا تھا اور سب کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں، جبکہ میری والدہ اور نانی دونوں کا تعلق امرتسر، بھارت سے تھا۔

اداکارہ نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں صرف کام کیا اور وہاں گزارا ہوا وقت میری زندگی کا یادگار حصہ ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میرے بہت سے دوست تھے اور مجھے وہاں کے ٹیکنیشنز، فنکاروں اور ڈراموں سے بھی بے حد محبت ہے۔

سلمیٰ آغا نے بتایا کہ بھارت میں بھی پاکستانی ڈرامے پسند کیے جاتے ہیں اور میرے نزدیک فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ میرے پاس بھارتی شہریت بھی نہیں، بلکہ میرے پاس بھارتی کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ ہے، جس کے ذریعے مجھے بھارت میں رہنے کی اجازت حاصل ہے۔

 سلمیٰ آغا نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستانی فلمی صنعت میں بطور اداکارہ اور گلوکارہ نمایاں مقام حاصل کیا، ان کی بطور مرکزی اداکارہ پہلی فلم نکاح تھی۔

سلمیٰ آغا کی بیٹی زارا خان بھی بھارتی فلمی صنعت سے وابستہ ہیں، سلمیٰ آغا اس وقت بھارت اور دبئی میں مقیم رہتی ہیں۔