برطانیہ میں جلد کے کینسر کے علاج میں ایک سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب آزمائشی طور پر تیار کی گئی ویکسین کارگر ثابت ہوئی اور مہلک جلد کے کینسر کو دوبارہ نمودار ہونے سے روک دیا۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ایک بڑے کلینیکل ٹرائل میں یہ بات سامنے آئی کہ پرسنلائزڈ کینسر ویکسین نے بیماری سے بچنے کی شرح بہتر بنانے اور بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ تجرباتی ویکسین خطرناک جلد کے کینسر میلانوما کے مریضوں کو دی گئی، واضح رہے کہ جلد کا یہ خطرناک کینسر ہر سال ہزاروں افراد کی جان لے لیتا ہے۔
گو کہ آخری مرحلے کے اس آزمائش کے نتائج ابھی شائع نہیں ہوئے، لیکن ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین کامیاب رہی ہے۔
یہ ویکسین مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کو پہچاننے اور علاج کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں ردِعمل ظاہر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اس نئی جنریشن برائے ٹیلر میڈ ٹریٹمنٹ ہزاروں افراد کے لیے امید افزا اور فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کلینیکل ٹرائل کے دوران مہلک نوعیت کے میلانوما کے 1,000 مریض شامل تھے۔ میلانوما جلد کے کینسر کی سب سے جان لیوا اقسام میں شمار ہوتا ہے۔ ان تمام مریضوں کی پہلے ہی سرجری ہو چکی تھی۔
یہ ویکسین کیٹروڈا کے ساتھ دی گئی، جو ایک امیونو تھراپی دوا ہے اور برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں پہلے ہی تقریباً ایک درجن اقسام کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ویکسین تیار کرنے والی دونوں معروف کمپنیوں کے مطابق کیٹروڈا کو اکیلے استعمال کرنے کے مقابلے میں ویکسین اور کیٹروڈا کے امتزاج نے مریضوں کے کینسر سے پاک رہنے کا عرصہ نمایاں طور پر بڑھایا، جبکہ بیماری کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے خطرے کو بھی کم کیا۔
نتائج کی تفصیلی معلومات رواں سال کے آخر میں جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ اس سال کے شروع میں شائع ہونے والے ایک چھوٹے تجربے کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا تھا کہ معیاری امیونو تھراپی کے ساتھ اینٹسمیران نامی ویکسین شامل کرنے سے کینسر کے دوبارہ ظاہر ہونے یا مریض کی موت کے خطرے میں 49 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
دوا ساز کمپنی نے نئی دریافت کو کینسر کی تحقیق کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے۔