2027ء میں عالمی غذائی بحران کا خطرہ، کھاد کی قلت اور طاقتور ال نینو نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

معروف عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ 2027ء میں دنیا کو غذاء کی کمی اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جے پی مورگن کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق کھاد کی قلت، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور طاقتور ال نینو ایک ساتھ عالمی غذائی پیداوار اور رسد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق 2027ء کی پہلی ششماہی میں عالمی غذائی مہنگائی تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ 2026ء کی پہلی ششماہی میں یہ شرح 2.8 فیصد تھی۔

کھاد کی قلت بڑا خطرہ

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا کا تقریباً 42 فیصد یوریا اور 27 فیصد امونیا برآمد کرتا ہے، آبنائے ہرمز کے گرد طویل رکاوٹ یا کشیدگی سے عالمی سطح پر کھاد کی فراہمی اور قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

قدرتی گیس نائٹروجن کھاد، خصوصاً یوریا کی تیاری میں بنیادی خام مال ہے، گیس کی قیمت بڑھنے سے کھاد کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، مہنگی کھاد کے باعث اگر کسان اس کا استعمال کم کریں گے تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

جے پی مورگن کے مطابق کھاد بنانے کی صلاحیت بحال ہونے میں 1 سے 4 سال لگ سکتے ہیں جبکہ بعض قدرتی گیس تنصیبات کو معمول پر آنے میں 3 سے 5 سال درکار ہو سکتے ہیں۔

طاقتور ال نینو کا خطرہ

غذائی بحران کا دوسرا بڑا خطرہ ال نینو کے باعث ہے۔ 

جے پی مورگن کے مطابق 2026ء کے اختتام تک موجودہ ال نینو کے انتہائی طاقتور یا ’سپر ال نینو‘ میں تبدیل ہونے کا امکان 81 فیصد ہے جبکہ 2027ء تک اس کے برقرار رہنے کا امکان 97 فیصد بتایا گیا ہے۔

طاقتور ال نینو دنیا کے بڑے زرعی علاقوں میں بارش اور درجۂ حرارت کے معمولات تبدیل کر سکتا ہے جس سے فصلوں کی پیداوار اور عالمی غذائی رسد متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

جے پی مورگن کے مطابق طاقتور ال نینو اپنے عروج پر عالمی غذائی مہنگائی میں تقریباً 0.7 فیصد اضافہ کر سکتا ہے، توانائی کی بلند قیمتیں بھی شامل ہو جائیں تو غذائی مہنگائی پر مجموعی اثر تقریباً 1.3 سے 1.5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

ال نینو کے اثرات عام طور پر فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے آغاز کے تقریباً 4 سے 8 ماہ بعد غذائی قیمتوں پر اس کا زیادہ نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

کیا دنیا میں خوراک ختم ہونے کا خطرہ ہے؟

جے پی مورگن کی وارننگ کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک ختم ہو جائے گی یا بڑے پیمانے پر قحط پڑنے والا ہے، اصل خدشہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے، کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھنے اور اہم زرعی اشیاء کی رسد متاثر ہونے کا ہے۔

ادارے کے مطابق اس وقت عالمی اناج کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں جبکہ ایشیاء میں چاول کے ذخائر بھی نسبتاً مضبوط ہیں، یہ ذخائر ممکنہ بحران کے ابتدائی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

تاہم اگر طاقتور ال نینو، بلند توانائی کی قیمتیں اور کھاد کی طویل قلت ایک ساتھ برقرار رہیں تو عالمی غذائی منڈی پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے اور 2027ء میں خوراک کی مہنگائی دنیا بھر میں ایک بڑا معاشی مسئلہ بن سکتی ہے۔