برطانیہ میں بڑھتے دباؤ کے باعث ڈاکٹرز کو معیاری طبی نگہداشت فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا

فوٹو: فائل

برطانیہ میں ڈاکٹروں کے ریگولیٹری ادارے جنرل میڈیکل کونسل (جی ایم سی) کے ایک تازہ سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد ڈاکٹر ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنے مریضوں کو مطلوبہ معیار کی طبی نگہداشت فراہم کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جبکہ جنرل پریکٹیشنرز  میں یہ شرح 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تشویشناک صورتحال کی بنیادی وجہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم یا لگن میں کمی نہیں بلکہ صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ، عملے کی کمی، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ٹیسٹوں و علاج میں تاخیر ہے۔

 سروے میں شامل ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھرپور کوشش کے باوجود ہر مریض کو وہ توجہ اور معیار فراہم نہیں کر پا رہے جس کے وہ خواہش مند ہیں۔

جنرل میڈیکل کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر کام کے ماحول میں موجود دباؤ کو کم کرنے، عملے کی کمی دور کرنے اور این ایچ ایس کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ڈاکٹروں کے لیے محفوظ اور معیاری طبی خدمات فراہم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا، جس کے اثرات براہِ راست مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑ سکتے ہیں۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کام کے خراب حالات اور مسلسل دباؤ کے باعث ملازمت چھوڑنے پر غور کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

 2024 میں جہاں 19 فیصد ڈاکٹر ملازمت چھوڑنے پر غور کر رہے تھے، وہیں 2025 میں یہ شرح بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی، جو این ایچ ایس کو درپیش افرادی قوت کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے، نئے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی بھرتی اور کام کے بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں مریضوں کے لیے بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔