پاکستان کی معروف گلوکارہ فریحہ پرویز کا کہنا ہے کہ اگر میرے بچے ہوتے تو میں اپنی اولاد کی حفاظت کی خاطر اپنی زندگی غرق کر دیتی، زندگی ان پر نچھاور کر دیتی۔
مقبول گانے دل ہوا بو کاٹا سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی گلوکارہ فریحہ پرویز نے کئی مقبول پنجابی گیتوں اور ڈراموں کے او ایس ٹیز میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔
انہوں نے گلوکار نعمان جاوید سے طلاق کے بعد 2016ء میں موسیقی کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
حال ہی میں فریحہ پرویز نے احمد علی بٹ کی پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اولاد نہ ہونے اور اللّٰہ کی جانب سے عطاء کردہ اس خوبصورت نعمت کے حوالے سے بعض والدین کے غیر ذمے دارانہ رویے پر کھل کر گفتگو کی۔
اولاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فریحہ پرویز نے کہا کہ میرے بچے نہیں ہیں اور میرا خیال ہے کہ اگر میں بیٹوں یا بیٹیوں کی ماں ہوتی تو میں ایک انتہائی محتاط ماں ہوتی، میں اپنی زندگی حقیقتاً ان پر نچھاور کر دیتی، اپنے آپ کو غرق کر دیتی، کیونکہ میں نے بھی اپنا بچپن گزارا ہے، کھیل کود کے لمحات، اسکول اور زندگی کے تمام مراحل دیکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچے کی زندگی میں ماں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، آج ہم دیکھتے ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کو آئی پیڈز، ٹیبلٹس دے دیتی ہیں، جس سے وہ ان کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ان میں سے نکلنے والی تابکاری بچوں کی کمر، ہڈیوں اور جسم کو متاثر کر رہی ہے، بچوں کی صحت پر سمجھوتا کیا جا رہا ہے۔
گلوکارہ نے والدین پر زور دیا کہ وہ براہِ کرم اللّٰہ کی دی ہوئی اس نعمت کا خیال رکھیں، اپنے بچوں کی قدر کریں، یہ ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اولاد ایک آزمائش ہے، ماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا کردار بخوبی ادا کریں، میں جانتی ہوں کہ والدین کو شاید میری یہ بات ناگوار گزرے، لیکن جب آپ کسی بچے کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی مناسب دیکھ بھال بھی ضرور کریں۔