امریکا نے طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی جگہ ایک نیا طیارہ بردار جہاز روانہ کر دیا ہے تاہم اس اقدام نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی بحریہ کو درپیش ایک بڑے اندرونی بحران کو نمایاں کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا روپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا بحرالکاہل میں تعینات یو ایس ایس جارج واشنگٹن گزشتہ ہفتے ویتنام کے شہر دانانگ سے روانہ ہوا تھا، اس کے ساتھ ایک بحری جنگی جہاز اور ایک تباہ کن (cruiser and a destroyer) جہاز بھی موجود ہیں۔
یہ بحری بیڑا آبنائے ملاکا عبور کرکے بحیرۂ ہند کی جانب بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یو ایس ایس ابراہام لنکن 260 دن سے زائد عرصے سے سمندر میں موجود ہے جو جدید دور میں کسی امریکی طیارہ بردار جہاز کی طویل ترین تعیناتیوں میں شمار ہوتی ہے۔
تقریباً 5000 اہلکاروں پر مشتمل اس جہاز کو نومبر 2025ء میں روانہ کیا گیا تھا اور یہ جنوری 2026ء میں مشرقِ وسطیٰ پہنچا جہاں 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں یہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اہلکاروں کی ذہنی صحت اور حوصلے پر تشویش
طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر اہلکاروں کی ذہنی صحت اور حوصلے کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جہاز پر بعض اہلکاروں نے خودکشی کی بھی کوشش کی ہے جبکہ اہلکاروں کے اہل خانہ اور امریکی قانون سازوں نے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ نے تسلیم کیا ہے کہ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں روایتی رسد کے مراکز متاثر ہونے کے باعث جہاز پر خوراک، صفائی کی اشیاء اور ڈاک کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
امریکی بحریہ کے مطابق ترجیح پہلے ضروری خوراک، پھر حفظانِ صحت کی اشیاء اور اس کے بعد ڈاک کو دی گئی تھی، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب جہاز پر صاف پانی اور مناسب خوراک دستیاب ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے رپورٹس مسترد کردیں
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جہاز پر خراب حالات کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ ہر جہاز، عملے اور کمانڈر کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے اور طویل تعیناتی کے باوجود اہلکاروں کی خدمات قابلِ احترام ہیں تاہم امریکی بحریہ سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد کئی ڈیموکریٹ قانون سازوں نے پینٹاگون سے تحقیقات اور جہاز پر حالات کی مکمل معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹر اور سابق میرین اہلکار روبن گالیگو نے کہا ہے کہ میں دو جماعتوں کے وفود کے ساتھ جہاز کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں، ان کے مطابق اہلکاروں کے ساتھ موجودہ سلوک ناصرف افسوسناک بلکہ خطرناک بھی ہے۔
آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھے گا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے باوجود امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکا یہ ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے تاہم واشنگٹن نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو کب اور کس طریقے سے ختم کیا جائے گا۔
یوں ایران کے خلاف امریکی فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کو اپنے ہی بحری بیڑے کی طویل تعیناتی، رسد کی مشکلات، اہلکاروں کی ذہنی صحت اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث بڑھتے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔