انسانوں، مویشیوں اور دیگر زندہ جانوروں کے گوشت کو کھانے والا خطرناک کیڑا میکسیکو اور وسطی امریکا کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں اس سے اب تک 500 سے زائد انسان متاثر ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم 1 ہلاکت کا تعلق اس انفیکشن سے جوڑا گیا ہے۔
’اسکرِیو ورم‘ نامی یہ طفیلی کیڑا (Parasitic Worm) ایک خاص قسم کی مکھی کا لاروا ہے، مادہ مکھی کھلے زخم یا جسم کے متاثرہ حصوں، خصوصاً ناک، منہ، آنکھوں اور کانوں کے قریب انڈے دیتی ہے، تقریباً 1 دن میں ان انڈوں سے لاروا نکل آتا ہے جو زخم میں داخل ہو کر زندہ گوشت کھانا شروع کر دیتا ہے۔
بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ انفیکشن شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور پٹھوں اور ہڈیوں تک کو متاثر کر سکتا ہے، انسانوں میں اس کیفیت کو ’مایاسس‘ (myiasis) کہا جاتا ہے۔
امریکی صحت کے ادارے کے طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اپریل 2025ء سے مارچ 2026ء تک میکسیکو میں سامنے آنے والے 202 مصدقہ انسانی کیسز کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق متاثرین کی تعداد 2025ء میں تقریباً 3 کیسز فی ہفتہ سے بڑھ کر 2026ء میں 9 سے زیادہ کیسز فی ہفتہ ہو گئی ہے۔
تحقیق میں شامل نصف سے زیادہ مریضوں کے پیروں پر انفیکشن تھا جبکہ دیگر کیسز میں سر، گردن، ناک، منہ اور آنکھیں متاثر ہوئیں، اس کیڑے کے انفیکشن سے 6 مریض ہلاک ہوئے تاہم محققین نے ان میں سے صرف 1 موت کو براہِ راست اس انفیکشن سے منسلک کیا۔
متاثرین کی اوسط عمر تقریباً 61 سال تھی، 72 فیصد مرد تھے اور 77 فیصد کو پہلے سے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق تھی۔
یہ طفیلی کیڑا مویشیوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے لاروا زندہ بافتوں (Tissues) کو کھاتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد 1966ء میں اس کیڑے کو ملک سے ختم کر دیا تھا تاہم جون 2026ء میں ٹیکساس کے ضلع زوالا میں ایک بچھڑے میں اس انفیکشن کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس کے بعد ٹیکساس اور نیو میکسیکو سے ہی مزید کیسز سامنے آئے۔
میکسیکو بھی 2003ء میں اس کیڑے سے پاک قرار دیا گیا تھا لیکن یہ 2024ء میں دوبارہ سامنے آیا اور اس کے بعد میکسیکو اور وسطی امریکا کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔
امریکی حکام اس وقت اس ’پیراسائٹ ورم‘ کو مویشیوں میں مستقل طور پر پھیلنے سے روکنے کے لیے نگرانی، جانوروں کی نقل و حرکت پر کنٹرول اور کیڑے کے خاتمے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کیڑے سے انسانی اموات کے کیسز سامنے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔