ٹرمپ انتظامیہ کا امیگریشن افسران کو الیکٹرک شاک دستانے دینے کا منصوبہ

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وفاقی امیگریشن اہلکاروں کو ایسے دستانے فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو لوگوں کو بجلی کے جھٹکے دے سکتے ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ان دستانوں کی خریداری کے لیے 10 کروڑ سے 20 کروڑ ڈالر تک خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ خریداری مارچ 2027ء کے اختتام تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ دستانے ’سی ٹی جی فائیو گلَو‘ (CT-G5 G.L.O.V.E) کے نام سے جانے جاتے ہیں اور بعض جیلوں اور پولیس محکموں میں پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

ان دستانوں کو بنانے والی کمپنی کے مطابق الیکٹرک دستانوں کا مقصد بجلی کے ہلکے اور تکلیف دہ جھٹکوں کے ذریعے کسی شخص کو وقتی طور پر منتشر کرنا اور قابو میں لانا ہے۔

امریکی محکمے کے مطابق دستانوں کو اہلکار توجہ ہٹانے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے استعمال کریں گے، دستانوں کی دستی کتاب کے مطابق یہ دستانے زیادہ سے زیادہ 380 وولٹ تک بجلی فراہم کر سکتے ہیں جس سے متاثرہ شخص کے پٹھوں کی مربوط حرکت متاثر ہوتی ہے۔

منصوبے پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے متعلق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان دستانوں کا استعمال تارکینِ وطن اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

خریداری کی ذمہ داری امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ محکمے کو دی گئی ہے جو اپنے نفاذ اور ملک بدری کے شعبوں کے اہلکاروں کو یہ دستانے فراہم کرے گا۔

 ٹرمپ انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کے باعث ادارے کو پہلے ہی طاقت کے مبینہ غیرضروری استعمال اور نسلی پروفائلنگ پر تنقید کا سامنا ہے۔

رواں سال اب تک امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ امیگریشن حراستی مراکز میں بھی درجنوں افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

نیشنل امیگریشن لاء سینٹر نے دستانوں کی متوقع خریداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کمزور اور غیرمحفوظ کمیونٹیز کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ 

دوسری جانب دستانے بنانے والی کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی محفوظ ہے اور جسم کے اندر داخل نہیں ہوتی تاہم کمپنی بزرگ افراد، کم عمر بچوں، حاملہ خواتین اور شدید معذوری کے شکار افراد پر ان کے استعمال سے گریز کی ہدایت کرتی ہے۔

کمپنی کے مطابق دستانے استعمال کرنے والے اہلکاروں کے لیے تربیتی کورس مکمل کرنا اور ہر 2 سال بعد دوبارہ تصدیق حاصل کرنا ضروری ہے۔

یہ خریداری بغیر بولی کے معاہدے کے تحت کیے جانے کی تجویز ہے جس کا باضابطہ اعلان جمعہ تک سامنے آنے کا امکان ہے۔

Related posts

امن عمل میں دنیا کے ساتھ ہیں، پاکستان کے کردار کی دنیا معترف ہے، صدر زرداری

ایکس نے حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا

میں معصوم ہوں، طویل عرصہ شک کے دائرے میں رہی ہوں، ریا چکرورتی