ورزش میں چند منٹ کی کمی بھی کینسر کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ کی سخت یا بھرپور ورزش میں صرف چند منٹ کی کمی بھی کینسر کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بس پکڑنے کے لیے دوڑنے کے بجائے آرام سے چلنا، یا جم جانے کے بجائے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر شام گزارنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو زندگی بھر جسمانی طور پر متحرک رہنا چاہیے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ورزش کم نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جسمانی سرگرمی میں معمولی کمی بھی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ تحقیق بی ایم سی میڈیسن نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی۔ محققین نے لوگوں کے طرزِ زندگی کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کے لیے ماڈلنگ بھی کی کہ ورزش اور کینسر کے خطرے کے درمیان کیا تعلق ہے۔

اس تجزیے میں 59,218 افراد شامل تھے، جن میں تقریباً 55 فیصد خواتین تھیں۔ ان افراد کی اوسط عمر 61.7 سال تھی۔ یہ تمام افراد یوکے بائیو بینک نامی طبی تحقیقی ڈیٹا بیس کا حصہ تھے، جس میں تقریباً پانچ لاکھ رضاکار شامل ہیں۔ تقریباً آٹھ سال تک جاری رہنے والی نگرانی کے دوران اس گروپ میں 2,385 افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔

محققین نے یہ جائزہ لیا کہ لوگ روزانہ کتنا وقت سوتے اور کتنی دیر بیٹھے رہتے ہیں، مثلاً ٹی وی دیکھتے ہیں، کتنی دیر کھڑے رہتے ہیں اور کتنی جسمانی سرگرمی کرتے ہیں، نیز اس سرگرمی کی شدت کتنی ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ جس قدر زیادہ جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں، ان میں کینسر کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص اپنے سونے یا بیٹھے رہنے کے وقت میں سے 15 منٹ کم کرکے اتنا ہی وقت جسمانی سرگرمی میں گزارے تو اس کے کینسر کے خطرے میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص 30 منٹ کی کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی کو 30 منٹ بیٹھنے میں تبدیل کر دے تو کینسر کا خطرہ تقریباً 8 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جان مچل نے کہا ہماری تحقیق سے ظاہر ہوا جو لوگ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محققین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ اگر پہلے سے فعال افراد اپنی جسمانی سرگرمی کم کر دیں تو کیا ہوگا تو معلوم ہوا کہ اس صورت میں بھی ان کے کینسر کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر مچل نے بتایا کہ روزانہ صرف دو سے تین منٹ کی بھرپور جسمانی سرگرمی کم کرکے اس وقت کو بیٹھنے، سونے یا ہلکی سرگرمی میں گزارنے سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بھرپور جسمانی سرگرمی سے مراد ایسی سرگرمی ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے اور پسینہ آنے لگے۔ اس میں کھیلوں میں حصہ لینا، تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا یا بھاری سامان اٹھا کر گھر لانا شامل ہیں۔

محققین کا اہم پیغام یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی جسمانی طور پر فعال ہیں، ان کے لیے عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی سرگرمی کی سطح برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس سے پہلے ہونے والی تحقیق میں بھی مضبوط شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ زیادہ جسمانی سرگرمی کئی اقسام کے کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہے، جن میں مثانے، چھاتی اور آنتوں کا کینسر شامل ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق بالغ افراد کو ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ بھرپور جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ معتدل جسمانی سرگرمی میں تیز چلنا، روزمرہ سائیکل چلانا اور بیڈمنٹن شامل ہیں۔ جبکہ بھرپور جسمانی سرگرمی میں پہاڑی علاقوں میں پیدل چلنا، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا اور ٹینس کھیلنا شامل ہیں۔

Related posts

آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، نتائج آنے کا سلسلہ جاری

ایرانی سپریم لیڈر نے 6 ٹاپ ملٹری کمانڈرز تعینات کردیے

سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی اور اہلیہ کو قتل کی دھمکیاں