بھارتی میوزک انڈسٹری میں امتیازی سلوک سے متعلق اے آر رحمان کے بیان پر منوج منتشر سیخ پا ہوگئے۔
میوزک کمپوزر اور ریکارڈ پروڈیوسر اے آر رحمان نے کہا تھا کہ اگر مجھے محسوس ہو جاتا ’چھاوا‘ پروپیگنڈا فلم ہے تو اس کی موسیقی ترتیب نہیں دیتا۔
50 سالہ گیت نگار و شاعر منوج منتشر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک گفتگو کے دوران کہا ایسا تو نہیں ہے کہ آپ نے فلم کا اسکرپٹ پڑھے بغیر اس کے لیے موسیقی بنانا شروع کر دی تھی۔ آپ نے اچانک فلم کے لیے موسیقی ترتیب دینا شروع نہیں کی ہوگی۔
انہوں نے کہا ٹھیک ہے اگر وہ پروپیگنڈا فلم تھی اور آپ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے، لیکن فلم کرنے کے بعد اسے پروپیگنڈا کہنا، یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
منوج منتشر نے اے آر رحمان کے مذہبی شناخت کی بنیاد پر کام نہ ملنے کے بارے میں کہا، ممکن ہے انھیں انڈسٹری کے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار نہیں رکھنے پر ایسا ہو رہا ہو۔
واضح رہے کہ منوج منتشر کا یہ ردعمل اے آر رحمان کے بی بی سی کو دیے گئے ایک سابقہ انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جس میں اے آر رحمان نے ہندی فلم انڈسٹری میں اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے امتیازی رویے کی بات کی تھی۔