بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکیورٹی گارڈ نے چھت پر پہنچ کر 23 سالہ طالبہ کو تشدد کرتے ہوئے زیادتی کا نشانہ بنا دیا، گرفتاری کے بعد کان پکڑ کر معافی مانگنے لگا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ 8 اگست کی رات پیش آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ سیکیورٹی گارڈ دھرم سنگھ رات 7 بج کر 22 منٹ پر لفٹ کے ذریعے عمارت کی پانچویں منزل پر پہنچا اور تقریباً 40 سیکنڈ بعد چھت کی جانب چلا گیا۔ تقریباً 90 منٹ بعد رات 8 بج کر 52 منٹ پر وہ عمارت سے باہر نکلتا دکھائی دیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ طالبہ گزشتہ دو برس سے احمد آباد میں مقیم تھی اور واقعے کے وقت فون پر بات کرتے ہوئے عمارت کی چھت پر ٹہل رہی تھی، جس نے الزام لگایا کہ گارڈ اس کے پاس پہنچا اور جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انکار پر اس نے طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گلے میں تار لپیٹ دیا، جس کے بعد مبینہ طور پر زیادتی کی۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ گلے میں تار کسنے کے باعث وہ چیخنے یا مدد کے لیے پکارنے سے بھی قاصر تھی۔ مبینہ حملہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے طالبہ کا موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے چھت پر بند کرکے فرار ہوگیا۔ جب طالبہ نے چھت کا دروازہ بند پایا تو اس نے مدد کے لیے شور مچایا، جس پر پڑوسی وہاں پہنچے اور اسے بچایا۔
واقعے کے بعد پولیس، لوکل کرائم برانچ اور کرائم برانچ کی 10 ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی تلاش شروع کی۔ دھرم سنگھ کو اتوار کی صبح تقریباً 7 سے 8 بجے کے درمیان ہیبت پور کے قریب سے گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق قانونی کارروائی کے لیے لے جاتے ہوئے ملزم نے مبینہ طور پر حراست سے فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس انسپکٹر آر ایس پرمار کی سرکاری پستول چھیننے کی کوشش کی، اس دوران ملزم اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس میں ایک کانسٹیبل بھی زخمی ہوا۔ پولیس افسر نے ملزم کی ٹانگ پر دو گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک اسے لگ گئی۔
حراست سے فرار ہونے اور پولیس اہلکار کا اسلحہ چھیننے کی مبینہ کوشش پر الگ مقدمہ درج کیا جائے گا۔
اسپتال میں زیرِ علاج ملزم نے ہاتھ جوڑ کر پولیس سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک بار معاف کردیں سر، میں زندگی میں دوبارہ کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔
پولیس کے مطابق دھرم سنگھ کو سیکیورٹی ایجنسی نے واقعے سے صرف چار روز قبل بغیر مطلوبہ رجسٹریشن کے سیکیورٹی گارڈ تعینات کیا تھا، ملزم گزشتہ چار برس سے احمد آباد میں مقیم تھا اور اس سے قبل چار مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ کام کرچکا تھا۔