ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای جلد پہلی بار عوام کے سامنے آ سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی عوام کے درمیان موجودگی، سڑکوں پر آمد اور مسلح افواج کے کمانڈروں سے ملاقاتوں کی ویڈیوز آئندہ جاری کی جائیں گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک بسیج تنظیم کے نائب سربراہ قاسم قریشی نے تصدیق کی ہے کہ نئے سپریم لیڈر جلد عوام سے رابطہ کریں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ میں ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا، تاہم تقرری کے بعد سے انہیں کسی عوامی تقریب میں نہیں دیکھا گیا، ان کی طویل عرصے سے عدم موجودگی کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان پر قاسم قریشی کے بیان کی اشاعت کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق افواہوں کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سپریم لیڈر کے دفتر نے اتوار کو بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
بیان کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنی صدارت کے تیسرے سال کے آغاز پر سپریم لیڈر سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کی، تاہم ملاقات کی تاریخ ظاہر نہیں کی گئی۔
مسعود پزشکیان نے رواں سال مئی کے آغاز میں بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا ذکر کیا تھا، تاہم اس وقت سپریم لیڈر کے دفتر کی جانب سے ملاقات کی کوئی تصدیق جاری نہیں کی گئی تھی۔
سپریم لیڈر کے دفتر کے مطابق ملاقات میں ملک کو درپیش مسائل اور معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جن میں موجودہ فوجی صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات بھی شامل تھے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے، اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے اور انہیں چہرے پر شدید زخم آئے تھے۔