پاکستانی میزبان اور اداکارہ نادیہ خان نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور اور اداکاری میں قدم رکھنے کے حوالے سے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔
نادیہ خان کو جدید مارننگ شوز کے بانی میزبانوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ڈراموں پر تبصرے بھی کرتی ہیں اور اپنے بے باک بیانات کے باعث اکثر خبروں میں رہتی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام اسٹار اینڈ اسٹائل میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے شوبز کیریئر کے حوالے سے گفتگو کی۔
نادیہ خان نے بتایا کہ معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین نے مجھے اس وقت منتخب کیا جب میں خوبصورتی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی، میں خود کو خوبصورت نہیں سمجھتی تھی اور اس بات کا بخوبی اندازہ تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ کالج کے زمانے میں ہم جماعتیں اکثر مجھ سے کہتی تھیں کہ میں زیادہ سے زیادہ کسی ہیرو کے والد یا بھائی کا کردار ادا کر سکتی ہیں، ساتھی طالبات مجھے کسی خاتون کے کردار کے لیے بھی کاسٹ کرنے پر تیار نہیں ہوتی تھیں، کیونکہ میں ان کے خیال میں نہ تو بہت گوری تھی اور نہ ہی نازک و حسین دکھائی دیتی تھی۔
نادیہ خان نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود میں نے بعد میں ہیروئن کے کردار میں کامیابی حاصل کی اور شوبز میں اپنی الگ پہچان بنائی۔
انہوں نے اپنے پہلے اداکاری کے تجربے سے متعلق بھی دلچسپ قصہ سنایا کہ جب میں نے اداکار عدنان صدیقی کے ساتھ اداکاری کا آغاز کیا تو میں حقیقتاً بہت کم عمر تھی۔
نادیہ نے بتایا کہ میرا پہلا شوٹ شہر سے باہر تھا، جہاں گھر سے دور ہونے کی وجہ سے مجھے شدید گھبراہٹ اور ہوم سِک ہونے کا احساس ہوا اور میں رونے لگی۔
ان کے مطابق پروڈیوسر نے مجھے خاموش کرانے کے لیے وعدہ کیا کہ اگر میں رونا بند کر دوں تو ہر 30 منٹ بعد مجھے آئس کریم دی جائے گی اور اس کے بعد جوس بھی ملے گا۔
نادیہ خان نے بتایا کہ عدنان صدیقی نے بھی اس وقت میری کم عمری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اتنی چھوٹی ہیں اور ہیروئن جیسا رویہ بھی نہیں رکھتیں۔
نادیہ خان کے مطابق کم عمری میں شروع ہونے والا یہی سفر آگے چل کر مجھے پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ بنانے میں اہم ثابت ہوا۔