میر رضا کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ہم نے سوال اٹھائے، پولیس خودکشی کا بیانیہ بناتی رہی، شاہزیب خانزادہ

جیو نیوز کے اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے میر رضا کی موت کے معاملے پر سوالات اٹھائے، قبر کشائی کے بعد حاصل نمونوں کی میڈیکل رپورٹ میں واضح ہوگيا کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گيا۔

میر رضا کی قبر کشائی کے بعد سامنے آئی ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر خصوصی پروگرام میں شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ تدفین سے پہلے کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گيا تھا کہ میر رضا کو گولی سینے سے لگی ہے، پہلی میڈيکل رپورٹ پر ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے پولیس خودکشی کا بیانیہ بناتی رہی، لیکن پولیس رپورٹ پر جتنے تحفظات اٹھائے گئے تھے وہ سب درست ثابت ہوگئے۔

 شاہزیب نے سوال اٹھایا کہ میڈیکل بورڈ بار بار کیوں بدلا جارہا تھا، کراچی میں ہوئے واقعے پر حیدرآباد کے ڈاکٹرز کو میڈیکل بورڈ میں کیوں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، جب پہلی میڈیکل رپورٹ پر سوال اٹھے تو پولیس نے جواب دینے کے بجائے اسے کور اپ کرنے کی کوشش کیوں کی؟ 

جب پولیس اسے خودکشی کا نام دے رہی تھی تو ہاتھ پر گن پاؤڈر کی تصدیق کیوں نہ کی؟ 

خصوصی ٹرانسمیشن میں رپورٹر کاشف مشتاق نے بتایا کہ رضا میر کی شرٹ پر کسی کے پسینے کے نشانات بھی ہیں اور پولیس ذرائع نے کہا ہے کہ نئی تفتیش کے بعد اب اسے خودکشی نہیں کہا جائے گا۔

Related posts

پاکستانی ٹیم نے ایک طلائی، دو چاندی کے تمغے جیت لیے

دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں، خطے میں تعاون اور سلامتی کیلئے ہے، ترک وزیر خارجہ

پولیس تفتیش نہیں کر رہی ہے، فیملی کو ہراساں کر رہی ہے، جبران ناصر