ران کی لمبائی سے ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق

سائنسدانوں کے مطابق رانوں (تھائیز) کی لمبائی سے ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق چھوٹی ٹانگوں والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں اس وقت 40 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے تشخیص شدہ مریض ہیں، جن میں تقریباً 90 فیصد کیسز ٹائپ 2 ذیابیطس کے ہیں۔ اس کے علاوہ اندازاً مزید 13 لاکھ افراد ایسے ہیں جو اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن ابھی تک ان میں ذیابیطس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

بہت سے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ ان علامات میں تھکن، زیادہ پیاس لگنا اور بار بار پیشاب آنا شامل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بیماری کئی سال تک بغیر تشخیص کے رہ سکتی ہے۔

اب ڈنمارک کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل تلاش کر لیا ہے، گھر پر کیا جانے والا ایک سادہ خود تشخیصی ٹیسٹ، جس میں دیگر چیزوں کے ساتھ ران کی لمبائی بھی ناپی جاتی ہے۔

ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے محقق ڈاکٹر ڈینیئل یو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے آسانی سے کی جا سکتی ہے، لیکن اگر کسی شخص کو یہ شبہ ہی نہ ہو کہ اسے ذیابیطس ہے تو وہ خون کا ٹیسٹ کروانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس نہیں جائے گا۔ اسی لیے گھر پر آن لائن ٹیسٹ لوگوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

اس ٹیسٹ کو میڈویکس کہا جاتا ہے۔ یہ آن لائن کیا جا سکتا ہے اور اسے امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامنیش سروے سے حاصل کیے گئے 30 سالہ صحت کے اعداد و شمار کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں سات مختلف عوامل سے متعلق سوالات کیے جاتے ہیں، جبکہ فرد کی جنس، عمر اور باڈی ماس انڈیکس جیسی بنیادی معلومات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ ان تمام معلومات کو گھر پر ہی ایک ٹیپ میجر، باتھ روم کے ترازو اور عام بلڈ پریشر مانیٹر کی مدد سے جمع کیا جا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ذیابیطس کے خطرے سے متعلق سب سے حیران کن علامت رانوں کی کم لمبائی تھی۔ انھوں نے لکھا کہ ران کی ہڈی (فیمر) کی لمبائی بچپن میں حاصل ہونے والی غذائیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں ناقص غذائیت ہڈیوں کی نشوونما کو معمولی حد تک متاثر کرتی ہے اور کئی دہائیوں بعد ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔

محققین کے مطابق جسم کا سب سے بڑا پٹھوں کا گروپ رانوں میں موجود ہوتا ہے، اور یہ پٹھے خون میں موجود شکر کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے نسبتاً چھوٹی ٹانگوں والے افراد میں پٹھوں کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خون میں موجود شکر کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو سکتی ہے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

Related posts

میر رضا کی موت سے متعلق ابتدائی اندازے مشکوک ہوگئے

میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، گولی پیچھے سے لگی

1 سال تک خاتون کی موت کی کسی کو خبر نہ ہوئی، فلیٹ سے ڈھانچہ برآمد