میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، گولی پیچھے سے لگی

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کی تفصیلات جیو نیوز نے حاصل کرلیں۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔

چھٹی پسلی کے فریکچر سمیت سینے کے حصے میں متعدد شدید چوٹوں کے شواہد ملے، زخم موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

میر رضا کی قبر کشائی کےعمل کے بعد سے میڈیکل ٹیم پولیس سرجن آفس میں موجود تھی، میر رضا علی کے والد اور وکیل جبران ناصر بھی پولیس سرجن آفس میں موجود تھے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو)  سمیع اللّٰہ سومرو کا کہنا ہے کہ میر رضا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا، رپورٹ سے متعلق اب تک رابطہ نہیں کیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کی قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17 سیمپلز حاصل کیے گئے، 4 نمونے ڈی این اے جانچ جبکہ دیگر کیمیکل ایگزامن کی غرض سے حاصل کیے گئے، دو ریفرنس سیمپلز میر رضا علی کے والدین سے حاصل کیے گئے جن سے ڈی این اے میچ کیا جائے گا۔

کیمیکل ایگزامن اور ڈی این اے رپورٹس کا رزلٹ 3 سے 4 روز میں متوقع ہے، قبر کشائی کے دوران حاصل تمام نمونوں کو محفوظ کرلیا گیا، پیر کے روز جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں تمام سیمپلز جمع کروائے جائیں گے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبر کشائی کا عمل آج تقریباً 3 گھنٹے تک ماہرین کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔

آج شام اگر رپورٹ میں کچھ آگیا تو دو دن میں قاتل کو پولیس سامنے لے آئے گی، جبران ناصر 

میر رضا کے والدین کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آج شام اگر رپورٹ میں کچھ آگیا تو دو دن میں قاتل کو پولیس سامنے لے آئے گی۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کی قبر کشائی کی تمام کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ پولیس سرجن کی جانب سے 14 تحفظات اٹھائے گے تھے جن کے جوابات مل جائیں گے۔

جبران ناصر نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آجائے گی تو پھر یہ سوال نہیں رہے گا کہ یہ خودکشی ہے یا قتل، شام 6 بجے تک رپورٹ آجائے گی، جس سے سب کچھ واضح ہو جائے گا، پولیس کا کاؤنٹ ڈاؤن تو پہلے سے ہی شروع ہے، مزید ہوجائے گا۔

میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ آگیا تو دو دن میں پولیس قاتل کو سامنے لے آئے گی، جبران ناصر

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کی قبر کشائی کی تمام کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ پولیس سرجن کی جانب سے 14 تحفظات اٹھائے گے تھے جن کے جوابات مل جائیں گے۔

اس سے قبل میر رضا کی قبر کشائی کے بعد دوبارہ تدفین کردی گئی، اور پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا، میر رضا کی لاش سے مختلف نمونے حاصل کیے گئے جنہیں کیمیائی تجزیہ کیلئے بھیجا  گیا تھا۔

میڈیکل بورڈ حکام نے میر رضا کے والد اور والدہ کا ڈی این اے سیمپل بھی لینے کا فیصلہ کیا، میر رضا کے والد نے قبر کشائی کی کارروائی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دعا ہے پوسٹ مارٹم میں جو کچھ پہلے ہوا اب نہ ہو، جو بھی رپورٹ آئے گی تسلیم کریں گے۔

میر رضا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے متعلق  خواجہ آصف کا رد عمل

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا رد عمل سامنے آگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ لگتا ہے ابتدائی رپورٹ میں سوالات کے جواب آرہے ہیں، اب سوال یہ ہیں کون پوسٹ مارٹم بورڈ کو بدلنے کی پشت پناہی کر رہا ہے یا تھا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کہیں نئی رپورٹ پر تو کوئی اثر انداز نہیں ہوگا اور انصاف کے تقاضوں کو کون پورا کرے گا؟

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس رپورٹ پر سوالات اٹھائے تھے، جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ جو نتائج ڈاکٹر نے نکالے ہیں وہ تصویر سے میچ نہیں کرتے، میرے بھی یہی سوالات ہیں۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا تھا کہ بہت کم ہوتا ہے کہ بلٹ انٹری کا زخم ایگزٹ سے بڑا ہو۔ ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔

میر رضا علی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں غلطیاں سامنے آگئیں، تفتیش خراب ہونے کا خدشہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا علی کی لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تصاویر اور ڈاکٹر کی رپورٹ دیکھی ہے، وہ میچ نہیں کرتی۔ زیادہ تر کیسز میں بلٹ کی ایگزٹ سائز بڑی ہوتی ہے۔ نہ ہم نے اور نہ ہی کرائم سین یونٹ نے میر رضا علی کے ہاتھ سے گن پاوڈر چیک کیا۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جوابات دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کر دیے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ کل پولیس ٹیم کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہوگی اور اس کیس پر مزید بات چیت ہوگی۔ رضا علی کے جسم کا اوپر والا حصہ زیادہ ڈی کمپوز دکھا رہا ہے جبکہ نچلا حصہ کم ڈی کمپوز ہے۔

دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا بیٹے کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کروائینگے، والدہ میر رضا علی

میر رضا علی کی والدہ نے کہا کہ ہم نے پچھلے 8 سے 10 دن میں بہت مشکلات کا سامنا کیا، ہم انصاف کی تلاش میں نکلے ہیں، بیٹے نے خود کشی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کی لاش آدھی جھاڑیوں میں اور آدھی باہر ہو تو باڈی کے ڈی کمپوزیشن میں فرق ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔ جس بارے میں بتایا گیا کہ بلٹ کی انٹری سائز ہے کیا وہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی وجہ سے بڑا ہوگیا ہے؟

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا تھا کہ جس جگہ رضا کی لاش ملی ہے وہاں پر خون نہ ہونے کے برابر ملا ہے۔ ایسے کیسز میں جب خون نہیں ملتا ہے اور زمین جذب کرلیتی ہے تو اس جگہ پر کھدائی بھی کرتے ہیں، سائنسی طریقے موجود ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ زمین پر کتنا خون گرا اور جذب ہوگیا۔

میر رضا کی موت سے چند گھنٹے قبل آڈیو کال، والد کا بیٹے کی آواز تسلیم کرنے سے انکار

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کا موت سے چند گھنٹے…

ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا تھا کہ کچھ سیمپل لیے گئے اور شرٹ فارنزک کےلیے بھیجی گئی ہے، ڈی آئی جی کو شرٹ کے گن شاٹ ریزیڈیو کے لیے بھی درخواست کی ہے، پتا چل سکتا ہے کہ لاش پر نشانات تشدد کے ہیں یا لاش کے ڈی کمپوز ہونے کی وجہ سے ہیں۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

Related posts

میر رضا کی موت سے متعلق ابتدائی اندازے مشکوک ہوگئے

1 سال تک خاتون کی موت کی کسی کو خبر نہ ہوئی، فلیٹ سے ڈھانچہ برآمد

پاکستان، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدے کی خوشی میں سرکاری عمارتوں کو سجا دیا گیا