سعودی سفارت خانے نے کہا ہے کہ معاہدہ کئی برس کی محتاط بات چیت، دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ ہے۔
واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق بیان جاری کر دیا۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق دفاعی معاہدے کا مقصد کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ بلاک کا قیام نہیں، نہ ہی معاہدہ جوہری عزائم یا ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے کی کوشش ہے اور نہ ہی معاہدہ خلیجی امریکی اتحادیوں، دیگر شراکت داروں کے ساتھ سعودی کے اسٹریٹجک تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی کسی ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں، یہ معاہدہ کسی موجودہ دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کی جگہ نہیں لے گا اور نہ ہی انہیں ختم کرتا ہے۔