پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سیاسی، معاشی، دفاعی قوت کا ایک جائزہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’’مکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر پوری دنیا میں تبصرے جاری ہیں۔ انہی تبصروں کے درمیان تینوں ممالک کی سیاسی، معاشی اور دفاعی قوت کا ایک جائزہ بھی سامنے آیا ہے۔

ایک ترکش صحافی سیتینر سیتین نے جمعہ کے روز طے پانے والے تین ملکی ’’مکہ معاہدے‘‘ کے فریقین کی فوجی طاقت کا جو خلاصہ اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیا ہے، اس کے مطابق اس معاہدے میں شامل ممالک میں سے پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاس 170 جوہری ہتھیار ہیں۔

سیاسی طاقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سعودی عرب اور ترکی جی20 کے رکن، سعودی عرب کے پاس اوپیک کی قیادت، ترکی نیٹو کا رکن اور نیٹو کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک ہے۔

اسی طرح تینوں ممالک 3 ٹریلین ڈالر کا مجموعی معاشی حجم رکھتے ہیں۔ دفاعی طاقت کے اعتبار سے دیکھیں تو تینوں ممالک کے پاس 1,000 لڑاکا طیارے، تینوں ممالک کی افواج میں کل 20 لاکھ (2 ملین) اہلکار، تینوں کے پاس مجموعی طور پر 7,000 ٹینک ہیں۔

اسی طرح پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے پاس مجموعی طور پر 90,000 بکتر بند گاڑیاں، تینوں کے پاس کل 34 آبدوزیں، ترکی اور پاکستان کے پاس 500 جنگی اور بحری پلیٹ فارمز ہیں۔

تینوں کے پاس 40 لاکھ (4 ملین) مربع کلومیٹر کا کل رقبہ جبکہ جلد ہی سعودی عرب اور ترکی کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ F-35 طیارے بھی اس دفاعی اتحاد کو دستیاب ہوں گے۔

Related posts

یورپین یونین 2029 تک 348 سیارے خلاء میں پہنچا دے گا

جو بھی وزیر ملا سب نے کہا ہماری بیوروکریسی ڈرتی ہے کام نہیں کرتی: چیئرمین نیب

یورپ میں امریکی فوجی آپریشنز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل چارلس کوسٹانزا عہدے سے برطرف