وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ میر رضا کیس میں سندھ حکومت کی کوئی بدنیتی نہیں ہے۔ پولیس سرجن کے تحفظات کے بعد ہم نے نئی میڈیکل ٹیم کا فیصلہ کیا۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کی ساکھ پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ پولیس سرجن نے نہ پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی نہ ڈیڈ باڈی دیکھی اور بیان دے دیا۔ میڈیکل بورڈ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بھی ہیں۔ میڈیکل بورڈ کا کنوینر پولیس سرجن کراچی کو ہی بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ واقعہ خودکشی ہے یا قتل، تحقیقات تو ہونی ہے۔ چاہتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے سیکریٹری صحت اور پولیس سرجن کو کہا کہ بورڈ بنائیں، جس میڈیکل بورڈ پر والدین کو اعتماد ہے وہی بورڈ ہوگا۔
ضیاالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پولیس سرجن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی اور کو بھی شامل کرسکتی ہیں۔ ہم نے پولیس سرجن کراچی کو اختیار دیا ہے کہ وہ میڈیکل بورڈ میں توسیع کرسکتی ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ والدین اگر سیکریٹری صحت کو خط لکھ دیتے تو وہ وہی بورڈ برقرار رکھ دیتے۔ پولیس سرجن کے ماتحت ایم ایل او نے پوسٹ مارٹم کیا۔
ضیاالحسن لنجار نے یہ بھی کہا کہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے بعد تین دن تھے ان کو کچھ سوالات تھے تو اس پر ان کو لکھنا چاہیے تھا۔ پولیس سرجن کراچی کے پاس 3 دن تک پوسٹ مارٹم رپورٹ رہی، انہوں نے کچھ نہ کیا۔ پولیس سرجن کراچی اپنے محکمے کی سربراہ ہیں رپورٹ پہلے انہی کے پاس گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس سرجن کراچی نے تحریری طور پر تحفظات نہیں بتائے۔ جو بھی چالان پیش ہوگا وہ شواہد کی بنیاد پرپیش ہوگا۔