اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایرانی حکومت گرانے کے منصوبے میں ناکامی کے بعد 2 اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کر دیا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے ایران کی حکومت گرانے کے مبینہ ناکام منصوبے کے بعد ادارے کے 2 اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا۔
چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ برطرف کیے گئے عہدیداروں میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ، جنہیں چند ماہ قبل ہی مقرر کیا گیا تھا اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں، دونوں عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی حکومت کے خلاف منصوبہ امریکا کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایران کے اندر حکومت مخالف سرگرمیوں کو تقویت دینا، اپوزیشن گروہوں کی حمایت کرنا اور وسیع اسرائیلی امریکی فضائی عسکری تحفظ کے تحت داخلی تبدیلی کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے سیکیورٹی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ یا تو ناکام ہو گیا یا پھر کبھی عملی مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
سیکیورٹی ذرائع نے چینل 12 کو بتایا کہ رومن گوفمین کے دونوں عہدیداروں کے ساتھ تعلقات ابتداء ہی سے کشیدہ تھے۔
ذرائع کے مطابق یہ برطرفیاں موساد کی قیادت اور ترجیحات میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے دوران عمل میں آئیں، بالخصوص ایران سے متعلق پالیسی کے حوالے سے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے میں ایران کی قیادت کی تبدیلی کے مختلف امکانات اور ممکنہ حکومت کے خاتمے کے بعد کے مرحلے سے متعلق امریکی حکام کے ساتھ رابطہ کاری بھی شامل تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ کوشش ابتدائی مرحلے میں ہی تعطل کا شکار ہو گئی، جس کے بعد منصوبہ ختم کر دیا گیا اور ذمے دار افراد کو جواب دہ ٹھہرایا گیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے 13 مارچ کو اعتراف کیا تھا کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ایک مشکل کام ہو گا اور اس بات کا یقین نہیں کہ ایسا ہو گا۔