ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آپ 100 سال تک جینا چاہتے ہیں تو کچھ اہم عادات اپنانی چاہئیں جنہیں بیشتر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انسان کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ عمر 194 سال تک ہو سکتی ہے۔
ماسکو کے اسکولکووو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کے مطابق اگر ماہرین عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی خلیات (سیلز) کی موت کو محدود کرنے کا طریقہ دریافت کر لیں، تو انسانی جسم زیادہ عرصے تک صحت مند رہتے ہوئے کام کرسکتا ہے۔
طرزِ زندگی کے عوامل حیاتیاتی بڑھاپے کے قدرتی عمل کو روک نہیں سکتے، لیکن یہ ہمارے جسم کے خلیات کو وقت سے پہلے مرنے سے بچا سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ صرف لمبی عمر ہی نہیں بلکہ صحت مند اور فعال زندگی بھی ہوتا ہے۔
احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کے کلینک (ایچ او او کے ای) سے تعلق رکھنے والی جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر کلیئر نیلینڈ کے مطابق طویل عمری کا اصل مقصد صرف زندگی کے سال بڑھانا نہیں بلکہ بڑھاپے میں بھی اچھی اور صحت مند زندگی گزارنا ہے۔
ڈاکٹر نیلینڈ کا کہنا ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کی منصوبہ بندی 50 یا 60 سال کی عمر میں شروع نہیں ہوتی۔ اپنے مستقبل کے لیے تیاری کرنے میں کبھی بھی بہت جلدی نہیں ہوتی۔ اگر آپ آج ہی سے صحت مند عادات اپنالیں تو آپ بڑھتی عمر میں بہتر، زیادہ صحت مند اور خوشحال زندگی کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا صرف متوازن غذا کھانا، اچھی نیند لینا اور باقاعدگی سے ورزش کرنا ہی کافی نہیں۔ کچھ ایسی کم معروف مگر انتہائی اہم روزمرہ عادات بھی ہیں جنہیں ہر عمر کے بالغ افراد اپنی روزانہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔
انھوں نے کہا ہم زیادہ تر وقت فرش پر بیٹھنے کے بجائے کرسی پر بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ فرش پر بیٹھنا جسم کے نچلے حصے کی طاقت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے جسم کی لچک اور توازن بھی بہتر ہوتا ہے۔ فرش پر بیٹھنے کی حالت سے کھڑے ہونے تک کا عمل ایک سادہ سی حرکت ہے، لیکن یہ خاموشی سے یہ جانچ لیتی ہے کہ آیا آپ کا جسم صحت مند انداز میں عمر گزار رہا ہے یا نہیں۔
اوسطاً ایک شخص روزانہ تقریباً 10 گھنٹے بیٹھا رہتا ہے، جس کے منفی اثرات ران کی ہڈیوں، کولہے کے جوڑوں اور پیلوک فلور کے عضلات پر پڑتے ہیں۔ فرش پر بیٹھنا اور اٹھ کر کھڑے ہونا ٹانگوں کی طاقت، کولہوں کی لچک، توازن اور جسمانی ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کریں تو عمر کے ساتھ یہ کمزور ہوتی جاتی ہیں۔
جو لوگ ان صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہیں، وہ عموماً زیادہ خودمختار زندگی گزارتے ہیں اور ان میں گرنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ گر جانا عمر رسیدہ افراد کے اسپتال میں داخل ہونے اور حتیٰ کہ موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ڈاکٹر نیلینڈ کے مطابق اس عادت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے فرش پر بیٹھیں، بچوں کے ساتھ فرش پر کھیلیں۔ فرش پر بیٹھ کر اسٹریچنگ کریں۔ اگر محفوظ ہو تو بغیر ہاتھوں کا سہارا لیے کھڑے ہونے کی مشق کریں اور روزانہ صرف چند بار یہ مشق کرنے سے بھی جسم کی حرکت، لچک اور چستی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔