عراقی ملیشیائیں یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ مل کر سعودی عرب پر جلد حملوں کی تیاری کر رہی ہیں۔
سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ممکنہ سعودی عرب کے اہداف میں شہری اور معاشی انفرااسٹرکچر شامل ہیں، جن میں توانائی کی تنصیبات، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے شامل ہو سکتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت کے شمالی اور جنوبی محاذوں سے مربوط حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔
عہدیدار کے مطابق ریاض اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ مسلح تنظیموں سے بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات پر بھی خبردار کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے گزشتہ روز جنوبی سعودی عرب پر کیے گئے حملے میں 11 شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی حکام نے خبردار کیا کہ حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے مشترکہ حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی زیرِ قیادت عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے (آج) جمعے کی صبح بتایا کہ صوبہ نجران میں ہونے والے حملے میں 7 سعودی، 1 یمنی، 2 مصری اور 1 پاکستانی شہری زخمی ہوئے، جن میں ایک 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جو دوسرے درجے کے جھلساؤ کا شکار ہے۔
ترکی المالکی نےحوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتحادی افواج شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
واضح رہے کہ ریاض اور حوثیوں کے درمیان ایک دہائی سے جاری تنازع اب خطے میں وسیع تر کشیدگی سے مزید جڑتا جا رہا ہے۔
بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی ناکہ بندی نے علاقائی تنازع کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اس ناکہ بندی سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔