ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ بار بار حملوں کی دھمکیاں دے کر اور پھر انہیں منسوخ کرکے ’تھیٹر ڈپلومیسی‘ کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ بڑا حملہ ہونے والا ہے، انتظار کریں، نہیں، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، یہ تھیٹر ڈپلومیسی کا مسلسل سلسلہ ہے۔
قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن فوجی دھمکیوں اور مذاکرات کی پیشکش کے درمیان بار بار پوزیشن تبدیل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تھیٹر سفارت کاری دہرائی جا رہی ہے، دھونس، ٹوٹے ہوئے وعدے اور جھوٹی خبریں دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ حقائق کو تسلیم کریں اور اپنے وعدے پورے کریں، مزید تھیٹر کی ضرورت نہیں، سنجیدہ اور ذمے دار طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ منسوخ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک نے امریکا سے حملے روکنے کی درخواست کی ہے اور سفارتی پیش رفت قریب ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر مکمل طور پر کھول دی جائے گی اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ہوگا۔