طلبہ احتجاج کے دوران پولیس وین کے سامنے کھڑی ہونے والی لڑکی ہراسانی کا شکار، مقدمہ درج نہ ہوسکا

—فوٹوز بشکریہ سوشل میڈیا 

بھارت میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس وین کے سامنے کھڑی ہونے والی نوجوان لڑکی ریا آہر نے انکشاف کیا ہے کہ احتجاج کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سے مجھے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ریا آہر نے بتایا ہے کہ میں وہی لڑکی ہوں جس نے 20 بچوں کو غیر قانونی حراست میں لینے سے پولیس کو روکا تھا لیکن اب اسی واقعے کے بعد مجھے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ریا آہر کے مطابق 27 جولائی کو ہراسانی کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی تاہم اب تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ تک محدود نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے جس پر فوری قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

نوجوان لڑکی کا کہنا ہے کہ ہراسانی ایک جرم ہے،  مجھے خوشی ہے کہ جن نوجوانوں کے لیے میں کھڑی ہوئی تھی، آج وہی نوجوان میری حمایت میں کھڑے ہیں۔

Related posts

وزیرِ اعظم شہباز شریف دورۂ سعودی عرب کیلئے روانہ

انسٹاگرام پر دوستی کے بعد بارہویں جماعت کی طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا بی بی اے کا طالب علم گرفتار

پاکستانی کرکٹر حمزہ نذر پر 2 سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد