لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے حوالے سے ’یوم استحصال کشمیر‘ سیمینار کا انعقاد کیا۔
سیمینار میں برطانوی پارلیمنٹیرین لارڈ قربان حسین، بیرونس نوشینہ مبارک، افضل خان ایم پی، عدنان حسین ایم پی، کونسلر یاسمین ڈار، لیاقت علی ایم بی ای چیئرمین سمیت سماجی کارکنوں، ادیب اور برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے شرکت کی۔
برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین، ممتاز قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنان اور مہمان مقررین نے سات سال قبل بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی غیرقانونی اور غیر آئینی تنسیخ کی شدید مذمت کی۔
سیمینار کے دوران مقررین نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور بھارت کے غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
پرامن حل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے کہا کے جموں و کشمیر تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے، مقررین نے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کی تجویز پیش کی جس میں کلیدی پالیسی فیصلہ سازوں تک ایک منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے رسائی کا خاکہ پیش کیا۔
ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے عالمی برادری، بلخصوص برطانیہ پر زور دیا کہ وہ انصاف کا ساتھ دیں اور بھارت پر زور دیں کہ 5 اگست 2019 کو کیے گئے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے۔
سیمینار کے دوران صدر پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھے گئے۔ شرکاء نے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔