تحریک کشمیر برطانیہ کی جانب سے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے کے شرکا سے خطاب میں صدر تحریک کشمیر برطانیہ فہیم کیانی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا محافظ ہے اگر آزاد کشمیر کے کشمیریوں کو پاکستان کا تحفظ حاصل نہ ہوتا تو وہ بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح خوف کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے اور مظالم برداشت کر رہے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں ڈیموگرافک دہشت گردی میں ملوث ہے وہ کشمیریوں کی شناخت کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے کشمیری دس لاکھ بھارتی افواج کا جبری قبضہ کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام حریت رہنماؤں کا رہا کیا جائے اور اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مزمل ٹھاکر، محمد غالب، راجہ سکندر و دیگر نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جس طرح غیرقانونی طور پر کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا تھا آج اس کے خلاف پھر ہم احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوئے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں، ہم لوگوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ بھارت آج بھی کشمیر پر قابض ہے، بھارت کشمیریوں کو حق خودارادیت دے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔
انہوں کہا کہ کشمیریوں نے بھارت کے اقدامات کو مسترد کردیا ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں۔
شرکا کا کہنا تھا کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کشمیری شناخت کو مسخ کرنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں اور بھارت کچھ بھی کرلے وہ کشمیریوں کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتا۔