ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود پر متفق ہوگئے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے، جب کوئی تیسرا فریق اس میں مداخلت نہ کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام پاکستان اور قطر میں اس معاملے میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا، عمان اور ایران کے درمیان 60 روز کے عارضی انتظام پر اتفاق ہوا ہے، معاہدے کے تحت خلیجی ملکوں کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی پانیوں کا راستہ اختیار کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرۂ عرب جانے والے بحری جہاز عمانی پانیوں سے سفر کریں گے۔
60 دن کی اس مدت کے دوران کوئی فیس نہیں لی جائے گی، فریقین 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں، واشنگٹن کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، اگر امریکا کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔
آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔
اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔
33 کلومیٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی 3 کلو میٹر ہے، جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔
مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی راستے سے جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8 ممالک ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں۔
دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے، جبکہ جاپان یہاں سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔