غزہ میں جنگ کی ہولناکیاں، ’جمپ سٹی‘ نے بچوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں

غزہ میں جنگ کی ہولناکیوں کے بعد بچوں کے لیے ایک تفریحی خیمہ کمپلیکس جسے جمپ سٹی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، بچوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹیں بکھیرنے کی ایک کوشش ہے۔

پیر کے روز غزہ سٹی کے شمال میں یاسین اسٹریٹ پر واقع اس خیمے میں فلمائی گئی ویڈیو میں بچے ٹریمپولین پر اچھلتے کودتے، ورچوئل ریئلٹی گیمز کھیلتے اور فیس پینٹنگ سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔

جمپ سٹی کے مالک محمود خلیل شاہین نے بتایا کہ برسوں کی جنگ کے بعد ان کے اپنے بچوں کو بھی تفریح کے لیے ایک محفوظ جگہ کی ضرورت تھی، جبکہ علاقے میں پارکس اور تفریحی مراکز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وسائل کی کمی، مہنگائی اور سامان کی عدم دستیابی کے باوجود یہ منصوبہ کامیاب ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہ پروجیکٹ تقریباً کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود شروع کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یہاں خان یونس، دیر البلح، المغازی، النصیرات اور دیگر علاقوں سے بھی لوگ اپنے بچوں کو لاتے ہیں۔ داخلہ فیس علامتی رکھی گئی ہے، جو 5 شیکل (تقریباً 1.64 امریکی ڈالر) سے شروع ہوتی ہے، جبکہ جن خاندانوں کے لیے ادائیگی ممکن نہیں، ان کے بچوں کو مفت داخلہ دیا جاتا ہے۔

فیس پینٹنگ کے کارنر میں کام کرنے والی ملاک شاہین نے کہا کہ یہ سرگرمی بچوں کی تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جب میں بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھتی ہوں تو کچھ دیر کے لیے اپنے دکھ اور تکلیف بھی بھول جاتی ہوں۔

یہاں آنیوالے ایک شہری احمد غبن نے کہا کہ ہمارے پاس بچوں کو لے جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ صرف سمندر ہی ایک تفریحی مقام ہے، لیکن وہاں بھی حملوں کا خوف رہتا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے سے بھی اسرائیلی حملوں کا ڈر رہتا ہے، اس لیے ہم اپنے بچے کو یہاں لے آئے۔ یہ جگہ گھر کے قریب بھی ہے اور بچوں کے لیے بہت اچھی اور محفوظ محسوس ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس نے گزشتہ اکتوبر میں ایک معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس میں جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی شامل تھی۔ تاہم، جنگ کے بعد غزہ کی گورننس اور تعمیر نو سے متعلق مذاکرات تاحال تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انکے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے ذریعے ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ہے، جس میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا منصوبہ شامل ہے۔

اس حوالے سے حماس کا کہنا ہے کہ ہتھیار صرف اسی صورت میں حوالے کیے جائیں گے جب اسرائیل تمام فوجی کارروائیاں بند کرے، غزہ سے مکمل انخلا کرے اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے۔

ادھر ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ جب تک حماس حقیقی معنوں میں غیر مسلح نہیں ہوتی، اسرائیلی فوج موجودہ یلو لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے کہا اسرائیل کو سنگین سکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔

Related posts

دوسرے ٹیسٹ میں محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ بتا دی

وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر اردن روانہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی سی بی سے معلومات فراہمی کا حکم معطل کردیا