دورہ سری لنکا، پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کو دورہ سری لنکا میں ون ڈے سیریز کے بعد ٹی 20 سیریز میں بھی شکست ہو گئی۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں نیدر لینڈز کے خلاف واحد میچ جیتنے والی خواتین کرکٹ ٹیم فاطمہ ثنا کی قیادت میں 3 ون ڈے میچوں کی سیریز 1-2 سے ہاری اور منیبہ علی کی قیادت میں ٹی 20 سیریز کھیلنے والی ٹیم کو بھی دو ایک سے شکست ہوئی۔

دمبولہ میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی 20 میچ میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے میزبان سری لنکا کو 20 اوورز میں 6 وکٹ پر 113 رنز تک محدود رکھا اور انیسویں اوور کی دوسری گیند پر چھ وکٹ کے نقصان پر 115 رنز بنا کر میچ 4 وکٹ سے جیتا لیکن اس کامیابی کا سیریز کے نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کو دمبولہ میں ابتدائی دونوں ٹی 20 میں 6-6 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سے قبل ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے ہمبنٹوٹا میں 5 وکٹ سے ضرور کامیابی حاصل کی، البتہ اگلے دونوں میچوں میں خواتین کرکٹ ٹیم کو 8، 8 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ون ڈے سیریز میں پاکستان نے تینوں میچوں میں ایک ہی ٹیم میدان میں اتاری، ورلڈ کپ میں ٹیم سے ڈراپ کی جانے والی دائیں ہاتھ کی بیٹر سدرہ امین نے ایک سینچری اور ایک نصف سینچری کیساتھ 217 رنز بنائے۔ 

دوسری کامیاب بیٹر گل فیروز تھیں جنھوں نے ایک نصف سینچری کی مدد سے 145 رنز اسکور کئے۔ پاکستان کی کوئی اور بیٹر تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکی۔

بولنگ میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تین میچوں میں نشرح سندھو نے چار اور کپتان فاطمہ ثنا صرف تین وکٹ اپنے نام کر سکیں۔

ٹی 20 سیریز میں پاکستان نے 3 میچوں میں 14 کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا، سیریز کی واحد نصف سینچری بنانے والی شوال ذوالفقار 132 رنز کیساتھ نمایاں رہیں،کپتان منیبہ علی نے 106 رنز بنائے۔

باقی کوئی بیٹر 100 رنز تین میچوں میں بنانے میں ناکام رہیں، بولنگ میں ام ہانی 4 اور نشرح سندھو 3 وکٹ حاصل کر سکیں۔

Related posts

صبور علی نے رضا علی قتل کیس پر سوال اٹھا دیا

یوم استحصال پر مسلح افواج کا مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی

آبنائے ہُرمُز کھلی ہے، کچھ جہاز وہاں سے گزر بھی رہے ہیں، مارکو روبیو