وندے ماترم میں رکاوٹ ڈالنے پر 3 سال قید کی سزا ہوگی، بل منظور

اپوزیشن رہنما بل کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے باہر نعرے لگا رہے ہیں(تصویر سوشل میڈیا)۔

بھارت میں وندے ماترم کی توہین پر سزا کا بل منظور کرلیا گیا، جس کے تحت وندے ماترم میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کی توہین پر تین سال قید کی سزا ہوگی۔ 

کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کی اور کہا بل آئین کے سیکولر کردار کی خلاف ورزی اور مذہبی آزادی کی پامالی کی کوشش ہے۔

اپوزیشن کا مزید کہنا تھا کہ پورا وندے ماترم نافذ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، دستور ساز اسمبلی پہلے بھی صرف دو بند منظور کرچکی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بل کو مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

انھوں نے کہا وندے ماترم میں دیوی اور دیوتاؤں کی عبادت شامل ہے، یہ قانون بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بل کی منطوری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا قانون سازی کے ذریعے مخصوص مذہبی تصور یا عقیدہ تمام شہریوں پر مسلط کرنا بھارتی دستور کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔

بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے کا پیش کردہ بل صدر کی منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔ نیتیانند رائے نے کہا یہ بل کسی فرد یا نظریے کے خلاف نہیں، قوم کے وقار اور مشترکہ قومی شعور کے حق میں ہے۔

Related posts

ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آؤٹ

بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر الیکشن کو خونی اور قاتل انتخابات قرار دیدیا

مینار پاکستان پر جلسہ، پی ٹی آئی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیے گئے