پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے حکومت سے اہم مطالبہ کر دیا۔
راحت فتح علی خان نے جنگ ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے پاکستان بھر سے موسیقی کا ٹیلنٹ اکٹھا کیا، جو بچے آگے نہیں آ سکے، وہ بھی بہت باصلاحیت تھے، ان میں کوئی مہدی حسن کی غزل پیش کر رہا تھا تو کوئی کلاسیکی موسیقی سے سماعتوں میں رس گھول رہا تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان آئیڈل کے بچے ہماری موسیقی کا روشن مستقبل ہیں، ان میں گانے کا جذبہ ہے، ان کا ولولہ اور جنون دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے۔
راحت فتح علی خان نے کہا کہ یہ سب اچھا گانے والے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ موسیقی کے شعبے میں بہت کچھ اچھا ہونے والا ہے۔
انہوں نے حکومت سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی کا روشن مستقبل ہونے کے باوجود بھی پاکستان میں سرکاری سطح پر موسیقی کی سرپرستی اس طریقے سے نہیں کی جاتی جیسے دوسرے ملکوں میں ہوتی ہے، موسیقی کی کوئی اکیڈمیز نہیں ہیں۔
راحت فتح علی خان نے کہا کہ میں حکومت سے مطالبہ کروں گا کہ استاد نصرت فتح علی خان کے نام پر ملک بھر میں موسیقی کے اسکولز، اکیڈمیز اور یونیورسٹیز بنائی جائیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں استاد نصرت فتح علی خان کا میوزک مقبول ہے، کوئی بھی موسیقار ان کے حصار سے نکل کر نیا کام نہیں کر پا رہا ہے، میں خود کوئی نیا کام نہیں کر پا رہا ہوں، ان کی موسیقی کے حصار کو توڑ کر باہر جانا محال ہو گیا ہے۔
راحت فتح علی خان نے نئے گلوکاروں کو مشورہ دیا کہ کلاسیکل موسیقی کا ریاض کریں اور راگوں کا علم حاصل کریں۔
اُنہوں نے پاکستان آئیڈل کے ججز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے، موسیقی کا مقابلہ ہے، سب کی رائے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
راحت فتح علی خان نے کراچی کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے کراچی سے پیار ہے، میری گائیکی میں شاعری کو فوکس کیا جاتا ہے اور کراچی میں شاعری کو سمجھنے والے لوگ زیادہ ہیں، میرا دل چاہتا ہے کہ میرا ایک گھر کراچی میں بھی ہونا چاہیے۔
جب ان سے شہرت کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں شہرت کو کچھ نہیں سمجھتا، اپنے کام پر توجہ دیتا ہوں، میری کامیابی بزرگوں کی دعاؤں کی وجہ سے ملی ہے۔
راحت فتح علی خان نے اپنے صاحبزادے گلوکار شاہ زمان علی خان کے بارے میں بتایا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں انہوں نے میلہ لوٹ لیا، بحیثیت والد یہ سب دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوتی ہے، شاہ زمان 3 برس کی عمر سے قوالیاں گاتا رہا ہے۔