پاکستان پریس کلب اسکاٹ لینڈ کا ہنگامی اجلاس، لندن مظاہرے کے دوران صحافیوں کیخلاف دھمکی آمیز رویے کی مذمت

گلاسگو: پاکستان پریس کلب اسکاٹ لینڈ کا ایک ہنگامی اجلاس صدر طاہر انعام شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں لندن میں ایک مظاہرے کے دوران اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے، ان کے خلاف نعرے بازی، بدزبانی اور دھمکی آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان پریس کلب اسکاٹ لینڈ طاہر انعام شیخ نے کہا کہ مرتضیٰ علی شاہ پاکستان سے باہر پوری دنیا میں بلاشبہ اردو کے سینئر ترین رپورٹر ہیں۔ مرتضیٰ نے کئی دہائیوں سے پیشہ ورانہ دیانت داری، غیرجانبداری اور اعلیٰ صحافتی اقدار کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔ ان کے ساتھ اس طرح کی غنڈہ گردی اور ہراسانی کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے کی کوششیں نہ صرف آزادیٔ صحافت بلکہ جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بھی خلاف ہیں۔

محترمہ راحت زاہد، ندیم عظمت، میجر (ر) ماجد اور عامر بٹ نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ ان کا بنیادی فرض غیرجانبداری کے ساتھ عوام تک درست معلومات پہنچانا ہے۔ اگر کسی کو کسی صحافی کی رپورٹنگ یا رائے سے اختلاف ہے تو اس کے اظہار کے لیے مہذب، قانونی اور جمہوری طریقے موجود ہیں۔ اختلافِ رائے کو بدزبانی، دھمکی یا ہراسانی میں تبدیل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ علی شاہ اور دیگر صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آزادیٔ صحافت پر ایک افسوسناک حملہ ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

چو ہدری ماجد حسین، رانا راشد اور راجہ عابد اور شاہد احمد چوہدری نے برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں کسی بھی صحافی کو اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ایسے ناخوشگوار حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Related posts

برطانیہ اسپین کی طرز پر مہاجرین کی فوری واپسی کی پالیسی نہیں اپنا سکتا: شبانہ محمود

ایم کیو ایم مرکز میں دو گروپس کا جھگڑا، ہوائی فائرنگ اور پتھراؤ سے 3 افراد زخمی

غیرقانونی طور پر اسپین میں داخلے کی کوشش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 72 ہوگئی