مودی کا اپنے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنیوالے طلبہ کو معاف کرنے کا اعلان

—فوٹوز بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جنتر منتر پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے دوران اپنے اور اپنی آنجہانی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے طلبہ کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے نئے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ گالیاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں، نوجوانوں کو سزا دینے کے بجائے درست راستہ دکھایا جانا چاہیے۔

نریندر مودی کا کہنا ہے کہ جنتر منتر میں ہونے والے واقعے کو پورے ملک اور دنیا نے دیکھا، چند گمراہ نوجوانوں نے ایسی زبان استعمال کی جس کی کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں، میں ان افراد کو معاف کرنا چاہتا ہوں اور معاشرے سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ان طلبہ کو معاف کر دیں اور ان کی رہنمائی کریں۔

واضح رہے کہ مودی کا یہ بیان اس مقدمے کے بعد سامنے آیا ہے جو احتجاج کے دوران مودی کے خلاف مبینہ نازیبا زبان استعمال کرنے پر ایک 15 سالہ طالبہ کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

نوئیڈا پولیس نے 2 مختلف دفعات کے تحت زیرو ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ مزید کارروائی کے لیے نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے منتقل کیا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والی لڑکی نے بھی معافی مانگ لی ہے۔

ویڈیو میں لڑکی کا ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنا ہے کہ میں احتجاج کے دوران کچھ افراد کے بہکاوے میں آ گئی تھی اور وزیرِ اعظم کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کر بیٹھی تھی۔

لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ میری عمر صرف 15 سال ہے جبکہ ایف آئی آر میں میری عمر 25 سال درج کی گئی۔

لڑکی نے یہ بھی کہا کہ یہ میری پہلی اور آخری غلطی ہے، میں پورے ملک سے معذرت کرتی اور اپنے عمل پر شرمندہ ہوں۔

لڑکی کی اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

Related posts

صرف 10 منٹ میں پاؤں کی سوجن کم اور ذہنی تناؤ سے نجات کا آسان طریقہ

پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی متعارف

سوتیلی ماں کی انکوائری جیوری کے سامنے کرانے کی درخواست