مانچسٹر: نامور اسلامی اسکالر و رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان رانا محمد شفیق پسروی نے کہا ہے کہ اسلام اور پاکستان ہماری شناخت ہیں۔
پاکستان سے آئے معروف اسلامی اسکالر، رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان، رویتِ ہلال کمیٹی، قرآن بورڈ اور متحدہ علماء بورڈ کے رکن رانا محمد شفیق پسروی کے اعزاز میں مانچسٹر کے مقامی ہوٹل میں استقبالیہ دیا گیا۔
تقریب کے میزبان چوہدری طاہر صدیق، مہمان خصوصی ایم پی افضل خان، لارڈ مئیر مانچسٹر شوکت علی تھے جبکہ اس موقع پر حافظ حمود الرحمان، مولانا افتخار سیالوی، قاری جاوید اختر، مفتی فضل الرحمان، حافظ سعود الرحمان، رب نواز اکبر، پیر مزمل شاہ نے خطاب کیا۔
اس دوران اپنے خطاب میں رانا شفیق پسروری نے کہا کہ اسلام اور پاکستان ہماری شناخت ہے، زندگی کے 90 فیصد مسائل پر اختلافات نہیں، مساجد کی تعداد بڑھنا خوش آئند ہے۔ ہمیں کردار بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری زبان اور ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔مسلمان کمیونٹی برطانیہ کی سیاست میں بھرپور حصہ لے اس کا فائدہ ہوگا۔ سیاسی اختلافات کم کرنے چاہیے۔
دوسری جانب اپنے خطاب میں ممبر پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ مسلم کمیونٹی میں اتحاد کی اشد ضرورت ہے، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے خطرات سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دینی اداروں کو لیڈرشپ پیدا کرنی چاہیے، مساجد موسم گرما می نوجوانوں کے لیے لیڈر شپ پروگرام شروع کریں۔ ہمیں نفرت کا سیلاب روکنا چاہیے، برطانیہ میں پانچ دنوں میں ایک مسجد پر حملہ ہو رہا ہے، جس کے لیے نفرت کو ختم کرنا چاہیے۔
ممبر پارلیمنٹ افضل خان کا کہنا تھا کہ ریفارم پارٹی کا مقابلہ کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے، چھوٹی سیاسی جماعتیں کمیونٹی کا تحفظ نہیں کرسکتیں، افسوس ہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے مانچسٹر کونسل کے چیف فنانس کونسلر رب نواز اکبر جس نے پہلی مرتبہ ایک ارب پونڈ کا بجٹ دیا لوکل انتخابات میں ہار گئے۔
اس دوران لارڈ مئیر شوکت علی نے کہا کہ وہ اتحاد پر پختہ یقین رکھتے ہیں، تمام مسالک میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے، مساجد کو اتحاد امت کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
مقررین نے کہا کہ برطانیہ میں نئی نسل میں دین کا رجحان پیدا کریں، برطانیہ میں مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی سرپرستی کرنی چاہیے۔ اسلام کا عالمگیر پیغام پھیلانے کی ضرورت ہے۔