وزن کم کرنا ہر بار ذیابیطس سے تحفظ نہیں دیتا، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنا ہر فرد میں ذیابیطس کی قسم ’ڈائیبٹیز ٹو‘ سے بچاؤ کی ضمانت نہیں کیونکہ بعض زیادہ خطرے والے افراد میں وزن کم ہونے کے باوجود خون میں شوگر کی سطح زیادہ رہتی ہے اور انسولین بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ خطرے والے کلسٹر 5 سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے جسمانی وزن میں تقریباً 8 فیصد کمی کی اور اسے 9 سال تک برقرار رکھا لیکن اس کے باوجود ان میں خون میں شوگر کی سطح بڑھتی رہی، انسولین کی پیداوار میں کمی آئی اور ذیابیطس کا خطرہ برقرار رہا۔

ماہرین نے ٹیوبنگن طرزِ زندگی مداخلتی پروگرام Tubingen Lifestyle Intervention Program (TULIP) کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جس میں قسم 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار افراد نے 2 سالہ طرزِ زندگی پروگرام میں حصہ لیا جس کے بعد تقریباً 9 سال تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر نوربرٹ اسٹیفن کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک 8 فیصد وزن کم رکھنے کے باوجود بعض افراد میں خون میں شوگر بڑھنا، انسولین کی پیداوار کم ہونا اور ذیابیطس کا زیادہ خطرہ برقرار رہنا حیران کُن تھا۔

مذکورہ تحقیق طبی جریدے ’ڈائبٹیز‘ میں شائع ہوئی ہے جس کے نتائج کے مطابق چربی والا جگر اور انسولین کے خلاف جسم کی مزاحمت ان افراد میں بیماری کے بنیادی عوامل ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ تحقیقات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ہر فرد کی حیاتیاتی کیفیت کے مطابق ذاتی نوعیت کی حکمتِ عملی اور زیادہ مؤثر علاج کی ضرورت ہوگی۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Related posts

ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے ہرادیا

معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی کا کراچی میں انتقال، تدفین کل ہوگی

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق