ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ واچ کے صحت سے متعلق اعداد و شمار بے چینی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسمارٹ واچز جدید صحت کی نگرانی کرنے والے آلات میں تبدیل ہو چکی ہیں، جو دل کی دھڑکن، نیند، ذہنی دباؤ کی سطح، جسمانی سرگرمی اور جسمانی ریکوری اسکور جیسے عوامل کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار پر حد سے زیادہ انحصار صحت سے متعلق ایک نئی قسم کی بے چینی کو بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب صارفین اسمارٹ واچ کی ریڈنگز کو اپنے جسم کے قدرتی اشاروں اور طبی ماہرین کی رہنمائی پر فوقیت دینے لگتے ہیں۔
ایکس ٹیکنالوجی کی بانی نرگیزا نیومن زینڈر کا کہنا ہے کہ صحت سے متعلق معلومات اس وقت فائدہ مند ہوتی ہیں جب وہ لوگوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیں، لیکن یہ نقصان دہ بن سکتی ہیں جب روزانہ کے اسکورز انسان کے جذبات اور رویوں کو کنٹرول کرنے لگیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی ایک ابتدائی علامت یہ ہے کہ بعض افراد بیدار ہوتے ہی اپنے جسم کی کیفیت محسوس کرنے کے بجائے سب سے پہلے اسمارٹ واچ چیک کرتے ہیں۔
اعداد و شمار پر ذاتی احساسات سے زیادہ بھروسہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جو فطری طور پر زیادہ فکر مند، حد سے زیادہ کمال پسند یا ہر چیز پر قابو رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ اسمارٹ واچ کے اعداد و شمار پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خراب نیند کا اسکور یا کم ریکوری ریٹنگ بعض اوقات کسی سنگین بیماری کی علامت سمجھ لی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت میں کوئی طبی مسئلہ موجود نہیں ہوتا۔
ماہرین نے وضاحت کیا کہ اگرچہ عددی ریڈنگز بظاہر غیر جانب دار نظر آتی ہیں، لیکن زیادہ تر اسمارٹ واچ الگورتھمز مکمل طبی معائنے کے بجائے مختلف نمونوں اور اندازوں کی بنیاد پر نتائج فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ کم ریکوری اسکور کا مطلب یہ نہیں کہ آپ غیر صحت مند ہیں، انسانی جسم ایسے کئی اشارے پیدا کرتا ہے جنہیں پہننے والے آلات مکمل طور پر ناپ نہیں سکتے۔
صحت کے اعداد و شمار رویوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل نگرانی کے باعث بعض صارفین جسم میں ہونے والی معمول کی تبدیلیوں کو بیماری کی علامات سمجھ سکتے ہیں۔
عارضی تھکن، کم نیند یا دل کی دھڑکن میں معمولی تبدیلیاں عام بات ہیں، تاہم جب اسمارٹ واچ انہیں زیادہ دباؤ یا خراب ریکوری قرار دیتی ہے تو کچھ افراد خود کو بیمار سمجھنے لگتے ہیں۔
کم ریکوری اسکور بعض لوگوں کو ورزش ترک کرنے، اہم کام مؤخر کرنے یا اپنی جسمانی صلاحیت کو کم سمجھنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے، حالانکہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہو سکتے ہیں۔
پہننے والے آلات طبی مشورے کا متبادل نہیں
ماہرینِ امراضِ قلب کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچز نے عوام میں صحت سے متعلق شعور بڑھانے میں مدد دی ہے، لیکن انہیں کبھی بھی پیشہ ورانہ طبی معائنے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہننے والے آلات دل کی دھڑکن، نیند کے انداز اور جسمانی سرگرمی سے متعلق مفید معلومات فراہم کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی انفرادی ریڈنگ کو ہمیشہ مکمل طبی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ماہرین نے کہا کہ حرکت، سینسر کا درست رابطہ نہ ہونا، پانی کی کمی، ذہنی دباؤ، کیفین کا استعمال اور ماحول جیسے عوامل بھی اسمارٹ واچ کی ریڈنگز کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے زور دیا کہ اگرچہ اسمارٹ واچ کسی ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن حتمی تشخیص صرف ماہر طبی معالج ہی مریض کی طبی تاریخ، معائنے اور ضروری ٹیسٹس کے ذریعے کر سکتا ہے۔
طویل مدتی رجحانات پر توجہ دینے کی ہدایت
ماہرینِ صحت کا مشورہ ہے کہ زیادہ تر صحت مند افراد روزانہ کے اسکورز میں معمولی اتار چڑھاؤ کے بجائے ورزش میں طویل مدتی بہتری، بہتر نیند اور صحت مند طرزِ زندگی کی عادات پر توجہ دیں۔
ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کی بیماری جیسے مسائل سے متاثرہ افراد بھی طبی نگرانی میں مخصوص صحت کے اشاریوں کی نگرانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اچھی صحت کا معیار ہر روز بہترین اسمارٹ واچ اسکور حاصل کرنا نہیں بلکہ مسلسل جسمانی اور ذہنی تندرستی برقرار رکھنا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتیﷰ مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔