فضائی حملے عراقی عوام یا سرکار کیخلاف نہیں تھے، سعودی عرب

سعودی عرب کے ایک حکومتی عہدیدار  نے کہا ہے کہ وہ برادر ملک عراق کی حکومت اور عوام سے مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔ 

ریاض سے عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومتی عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دنوں میں فضائی حملے عراقی عوام یا سرکار کے خلاف نہیں تھے۔ فضائی حملے کے ذریعے مسلح ملیشیا گروپوں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

سعودی عہدیدار نے کہا کہ عراق میں سرگرم مسلح ملیشیا گروپوں سے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ تھا۔ ملیشیا گروپوں نے سعودی عرب کے اہم شہری اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، فضائی حملے ملیشیا گروپوں کے عسکری گوداموں تک محدود تھے۔ 

عہدیدار نے کہا کہ مسلح ملیشیا گوداموں سے سعودی عرب کے اہم مقامات پٹرولیم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 

سعودی عہدیدار نے کہا سعودی عرب کا ردعمل کئی مہینوں سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد آیا، دہشتگرد ملیشیا عراق کے مفادات سمیت عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

سعودی عہدیدار نے کہا کہ ملیشیا گروپ عراق کی سرزمین اور وسائل کو پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ یہ جماعتیں عراق کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔

Related posts

ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے ہرادیا

معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی کا کراچی میں انتقال، تدفین کل ہوگی

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق