کرینہ کپور کا سیف علی خان پر ہوئے حملے کو جعلی کہنے والوں سے سوال

— فائل فوٹو

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے سیف علی خان پر ہونے والے جان لیوا حملے سے متعلق زیرِ گردش سازشی نظریات کو مسترد کر دیا۔

حال ہی میں کافی ود کرن کے آخری سیزن کی ایک قسط میں بالی ووڈ کی معروف فنکار جوڑی کرینہ کپور اور سیف علی خان شریک ہوئے، جہاں انہوں نے گزشتہ سال اپنی رہائش گاہ پر پیش آنے والے حملے سے متعلق گفتگو کی۔

دورانِ گفتگو اداکارہ نے اپنے گھر میں ہونے والے چاقو کے حملے کے بعد اس سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سازشی نظریات کو مسترد کر دیا۔

واقعے کو من گھڑت یا پہلے سے طے شدہ قرار دیے جانے سے متعلق دعوؤں پر کرینہ کپور نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور سوال اٹھایا کہ پولیس کی تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کے باوجود ایسے سازشی نظریات کیسے برقرار رہ سکتے ہیں؟

اداکارہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ سازشی نظریات کہاں سے آتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کا خیال تھا کہ پولیس بھی ہمارے ساتھ ملی ہوئی ہے، کیونکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا تھا تو پھر کیا پولیس بھی اس سازش کا حصہ تھی؟

حملے کے بعد پیدا ہونے والی افرا تفری کو یاد کرتے ہوئے کرینہ نے بتایا کہ جب سیف پر حملہ ہوا تو ان کے بیٹے اور ملازم انہیں فوری اسپتال لے گئے جبکہ میں اسپتال جانے کے لیے رات کے کپڑوں میں ہی سڑک پر سواری تلاش کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا بچوں پر بھی گہرا اثر مرتب ہوا تھا، سیف کے زخمی ہونے کے بعد تیمور نے ان سے سوال کیا کہ ابّا کیا آپ مر جائیں گے؟، اس سوال نے خاندان کو جذباتی طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، وہ ایک انتہائی مشکل وقت تھا۔

واضح رہے کہ 16 جنوری 2025ء کو ایک حملہ آور نے سیف علی خان کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر ان پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد انہیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔