برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے تحت خون کے نئے ٹیسٹ کی آزمائش شروع کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے ایک ہی وقت میں کینسر کی 12 اقسام کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ممکن بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت کے مالی تعاون سے شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت انگلینڈ میں 200 سے زائد جنرل پریکٹیشنر (جی پی) کلینکس کے مریضوں کو ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس آزمائش میں 45 سال اور اس سے زائد عمر کے 20 ہزار سے زیادہ افراد حصہ لے سکیں گے، جنہیں مسلسل پیٹ پھولنے، درد یا دیگر غیر واضح علامات کا سامنا ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں خون کے نمونوں میں ایسے پروٹینز یا ڈی این اے کے ٹکڑوں کی موجودگی کا جائزہ لیا جائے گا جو کینسر کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مریضوں کے معمول کے ٹیسٹوں کے ساتھ خون کی 1 یا 2 ٹیوبیں حاصل کی جائیں گی۔
اس تحقیق میں آنتوں، معدے، غذائی نالی، لبلبے، جگر، پتے، بیضہ دانی، گردوں اور پروسٹیٹ سمیت کینسر کی مختلف اقسام کا جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر ایسے کینسر کی جلد تشخیص پر توجہ دی جائے گی جن کی علامات عام بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں اور اکثر ان کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب مرض پھیل چکا ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق اس آزمائش کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ خون کے یہ ٹیسٹ کینسر کی تشخیص میں کتنے مؤثر ہیں اور کیا انہیں این ایچ ایس کے وسیع تر نظام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تصدیق نہیں ہو گا، جبکہ منفی نتیجہ بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ مریض کو کینسر نہیں ہے۔
این ایچ ایس انگلینڈ کے نیشنل کلینیکل ڈائریکٹر برائے کینسر پروفیسر پیٹر جانسن کے مطابق پیٹ کے اندرونی اعضاء کے کینسر کی ابتدائی تشخیص مشکل ہوتی ہے کیونکہ ان کی علامات دیگر کم سنگین بیماریوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
برطانوی وزیرِ صحت یویٹ کوپر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسے ٹیسٹ ان مریضوں کی جلد نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے جنہیں فوری طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
کینسر ریسرچ یو کے کی مشیل مچل نے بھی اس آزمائش کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جی پیز کو غیر واضح علامات والے مریضوں کی جانچ کے لیے بہتر سہولت میسر آ سکتی ہے۔